The news is by your side.

Advertisement

گوردوارہ کرتارپور کے احاطے میں فوٹو شوٹ ، وزیراعلیٰ پنجاب کا نوٹس ، انکوائری کا حکم

لاہور : گوردوارہ کرتارپور کے احاطے میں فوٹو شوٹ پر وزیراعلیٰ پنجاب نے انکوائری کا حکم دے دیا جبکہ وفاقی وزرا نے ڈیزائنر اور ماڈل سے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق گوردوارہ کرتارپور کے احاطے میں فوٹوشوٹ پر وزیراعلیٰ پنجاب نے نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری سے رپورٹ طلب کرلی اور واقعہ کی انکوائری کا حکم دے دیا۔

عثمان بزدار نے کہا ماڈلنگ کی اجازت دینے والے عملے کے خلاف بھی کارروائی کی جائے، پاکستان میں بسنے والی ہر اقلیتی برادری کے جذبات کااحترام کرتےہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ واقعے سے سکھ برادری کے جذبات مجروح ہونے پر دکھ ہے، ذمے داروں کے خلاف کارروائی ہوگی اورہوتی ہوئی نظر بھی آئے گی۔

دوسری جانب پنجاب پولیس نے کرتارپورمیں ہونے والے واقعےکی چھان بین شروع کردی، پنجاب پولیس کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جارہی ہے، ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، متعلقہ برانڈ اور ماڈل کے انتظام کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

کرتارپور کے احاطے میں فوٹوشوٹ، وزرا کا ردعمل


وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے پیغام میں کہا کہ ڈیزائنر اور ماڈل کو سکھ برادری سے معافی مانگنی چاہیے، گوردوارہ کرتارپور ایک مذہبی علامت ہے فلم کا سیٹ نہیں۔

معاون خصوصی شہبازگل نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ بے وقوف اور نا سمجھ۔ ڈیزائنر کو سکھ برادری کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر معافی مانگنی چاہیے۔ برانڈ نے وضاحت کی کہ تصویریں کسی تیسرے فریق سے حاصل کیں۔ یہ بیہودہ منطق ہے۔

شہبازگل کا کہنا تھا کہ اپنےآفیشل اکاؤنٹس پر استعمال کر رہے تھے تو کیا آپ اندھے تھے؟ کرتاپورسکھومت کے بانی گروناننک کی جائےپیدائش ہے، یہاں ہونے والی ماڈلنگ پرسکھوں میں شدیدغم وغصہ پایا جاتا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں