site
stats
سندھ

کراچی کو دنیا کا پُرامن ترین شہر بنایا جائے گا،وزیراعلیٰ سندھ

کراچی : ایپکس کمیٹی نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت کراچی میں پائیدار امن کیلئے تمام ترضروری اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔جس کے تحت اسٹریٹ کرائم میں ملوث مجرموں اور منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاوٴں شروع کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

یہ فیصلے آج وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت منعقدہ ایپکس کمیٹی کے 17ویں اجلاس میں کئے گئے۔اجلاس میں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان، کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار،وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے اطلاعات مولابخش چانڈیو، صوبائی مشیر مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری محمد صدیق میمن، ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر،آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ،ایڈیشنل آئی جی پولیس مشتاق مہر،ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء ا? عباسی،انٹیلیجنس ایجنسیوں کے صوبائی سربراہاں،سیکریٹری داخلہ شکیل منگیجو،پراسیکیوٹرجنرل شہادت اعوان و دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ دہشت گردوں ،ٹارگٹ کلر،بھتہ خوروں اور اغوا برائے تاوان میں ملوث مجرموں کے خلاف آپریشن کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آئے ہیں،جاری آپریشن میں مجرموں ،مافیا اور کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی ریڑھ کی ھڈی توڑ دی گئی ہے،مگر اس کا یہ بھی مطلب نہیں ہے کہ ہدف حاصل کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے پائیدار امن کو یقینی بنانے کیلئے باہمی مشاورت کے تحت حکمت عملی وضع کی ہے، یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ اسٹریٹ کرائم میں ملوث مجرموں کوکسی گروپ یا تنظیم کی پشت پناہی حاصل نہیں ہے اور یہ اپنے طور پر کام کر رہے ہیں اور چوں کہ ان جرائم کے براہ راست متاثرین عوام الناس ہو تےلہذا اسے بھی جڑ سے اکھاڑ کرپھیکنا ضروری ہے

اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ مختلف سنگین جرائم میں ضمانت پانے والے ملزمان بھی اسٹریٹ کرائم میں ملوث ہوتے ہیں ایسے مجرم ثبوت نہ ہونے کے باعث ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں۔

اجلاس میں یہ بات بھی زیر بحث آئی کہ ڈرگ مافیا، منشیات فروش بھی شہر میں سرگرم ہیں اور یہ لوگ بھی اسٹریٹ کرائم کرنے والوں کو سپورٹ کرتے ہیں اور دہشتگرد گینگسٹرز کو مضبوط بنانے کیلئے انکی مالی معاونت بھی کرتے ہیں چنانچہ وہ علاقے جہاں پر یہ گینگ ہیں یا آپریٹنگ کررہے ہیں ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جاے گا

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ فورتھ شیڈول میں شامل لوگوں کی سرگرمیوں کی بھی نگرانی کی جائے گی اوروہ لوگ جو فورتھ شیڈول میں ہیں اور سرکاری ملازم بھی ہیں انہیں شوکاز نوٹیس دیا جائیگا اس مقصد کیلئے چیف سیکریٹری قوانین کا جائزہ لیں گے اور ضروری اقدامات یا ترامیم تجویز کریں گے۔

اجلاس میں اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی فہرست دیگر ایجنسیوں ، صوبوں اور وفاقی حکومت کے ساتھ بھی شیئر کی جائے گی تا ہم فورتھ شیڈول میں شامل لوگ محکمہ داخلہ میں اپیل دائر کر سکتے ہیں،

اجلاس میں یہ بات بھی واضح کی گئی کہ 3023اشتہاری ملزم ہیں، پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان سے کہا گیا کہ وہ رینجرز، پولیس، انٹیلجنس ایجنسیوں، وفاقی ایجنسیوں و دیگر صوبائی حکومت سے انکی گرفتاری کیلئے ان کی فہرست شیئر کریں۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ سندھ میں رہنے والے غیر قانونی تارکین وطن بھی بہت بڑا مسئلہ ہیں۔اے جے کے حکومت کے پاس 15000ہزار تاریکن وطن تھے اور انہوں نے انہیں بے دخل کردیا ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت پر زور دیا جائیگا کہ وہ سندھ پولیس کو غیر قانونی تاریکن وطن کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے اختیارات دے، اس وقت یہ اختیارات ایف آئی اے کے پاس ہیں۔

آئی جی پولیس اے ڈی خواجہ نے اجلاس کو بتایا کہ 8ہزار پولیس اہلکاروں کی این ٹی ایس ٹیسٹ جس میں آرمی افسران بھی شامل تھے کہ ذریعے انکی سلیکشن کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ 4 ہزار نئے بھرتی کیے گئے پولیس اہلکاروں کو تربیت کے لیے رسالپور بھیجا جا رہا ہے اور جب ان کی تربیت مکمل ہوجائے گی تو مزید چار ہزار کو بھی تربیت کیلئے بھیجا جائیگا۔

کورکمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے کہا کہ انہوں نے نئے بھرتی ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تربیت کے لیے تمام تر ضروری انتظامات کئے ہیں،انہوں نے 6اے پی سیز اور 5سو ہتھیار بھی سندھ پولیس کے حوالے کیے ہیں۔

آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہا کہ انہیں شہر میں فرانزک لیب قائم کرنے کیلئے400 مربع گز زمین کی ضرورت ہے، اس پر کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے کہا کہ وہ ڈی ایچ اے کے ساتھ بات کریں گے اور وہ ہر ممکن کوشش کریں گے کہ اس مقصد کیلئے زمین کا انتظام ہوجائے۔

اجلاس کی شرکاء نے متفقہ طور پر شہر میں امن کی بحالی کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں، رینجرز،پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مدارس کے وہ طلباء جوکہ شام، عراق یاافغانستان سے ہیں اور واپس چلے گئے ہیں یا یہاں پر موجود ہیں اُن کی علیحدہ علیحدہ فہرستیں بھی مرتب کی جائیں جس کا ٹاسک ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثناء اللہ عباسی کو دیا گیا

اجلاس کو بتایا گیا کہ 93 مدارس جوکہ دہشتگردوں کے ساتھ تعاون میں ملوث ہیں انہیں الرٹ لسٹ میں رکھا گیا ہے اور انکی سرگرمیاں ،وزیٹرس اور فنڈنگ سمیت تمام امور کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ چندمقامی قوم پرست گروپ بھی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور دہشت گردوں کیلئے کام کر رہے ہیں،انکے خلاف بھی کاروائی کی جائے گی اور یہ کارروائی رینجرز اور پولیس مشترکہ آپریشن کے طور پر کریں گے۔

دریں اثناء ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے اجلاس کورینجرز کی کارکردگی اور ان کے ٹارگیٹیڈ آپریشن سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ رینجرز نے گھگھر کے نزدیک سسئی برج اور کوٹ سبزل۔ سندھ۔پنجاب بارڈر پرتمام ترضروری سامان سے آراستہ چیک پوسٹس بھی قائم کی ہیں جب کہ حب پر چیک پوسٹ زیر تعمیر ہے،

رینجرز چیک پوسٹ سے گزرنے والی گاڑیوں کی چیکنگ کر رہی ہے اور ہیڈکوارٹر میں قائم کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ذریعے بھی ان کی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ شہر بھر میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کو لازمی اپ گریڈ کیا جائے اور یہیں سے پورے شہر کی مانیٹرنگ کی جائے،پوری شہر کی نگرانی کا اس اچھا طریقہ دستیاب نہیں ہے

گورنر سندھ کی ہدایت پر چیف سیکریٹری نے بتایا کہ کیمروں کی اپ گریڈیشن اور نئے کیمروں کی تنصیب کا کام جاری ہے اور اب تک ٹیکنیکل کام جیسے ٹینڈر یا اسپیسی فیکیشن کا کام مکمل ہو گیا ہے جس کے بعد شہر میں 12میگاپکسل کے 10 ہزار کیمرے نصب کیے جائیں گے،

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کریں گے اور فنڈز کوئی مسئلہ نہیں ہے اور یہ میری ذمہ داری ہے کہ فنڈز کا انتظام کروں مگر آپ کو چاہیے کہ آپ اس شہر کو دنیا کا پرامن ترین شہر بنائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top