site
stats
سندھ

ہوسکتا ہے یہ اسمبلی مدت پوری نہ کرسکے اور تحلیل ہوجائے، وزیراعلیٰ سندھ

کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ںے بجٹ سیشن میں اپنی تقریر کے دوران سندھ حکومت کے تحلیل ہو جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ یہ اسمبلی اپنی مدت پوری نہ کرسکے اور تحلیل ہوجائے۔

وہ بجٹ سیشن کے دوران بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایوان سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ میں بجٹ پربات کرنے والا 100 واں اسپیکرہوں اور کل تک سندھ حکومت 161 ارب روپے استعمال کرچکی ہے جب کہ جولائی2016 میں 45 بلین جاری کیے تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بجٹ کے استعمال میں سندھ حکومت کی کارکردگی سب سے بہتر ہے جب کہ کے پی کے نے سب سے کم بجٹ استعما ل کیا ہے اس لیے سندھ حکومت پر بجٹ جاری نہیں کرنے کا الزام بے بنیاد اورمن گھڑت ہے اور اب میں کے ایم سی سمیت تمام اداروں سے ایک ایک پائی کا حساب لوں گا۔

اپنی حکومت کی کارکردگی کا زکر کرتے ہوئے جہاں انہوں نے شاہراہ فیصل کی تعمیر، یونیورسٹی روڈ کی تزئین و آرائش، طارق روڈ کی تکمیل اور پانی کے منصوبے کے-فور کا تزکرہ کیا وہیں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی حکومت سے شکوہ کیا کہ اس وقت تک سندھ کو وفاق سے68 ارب کم ملے ہیں جس سے ترقیاتی منصوبے تاخیر کا شکار ہیں۔

اس موقع پر اراکین ایم کیو ایم اختیار دو اختیار دو ، میئر کو اختیار دو کے نعرے لگاتے ہیں جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کو بولنے دیں ایسا نہ ہوں کہ ایم کیو ایم پاکستان کی کوئی چوتھی جماعت نہ بن جائے، مجھے تو آج پتہ چلا ہے کہ یہ اب ایم کیو ایم پاکستان بن چکے ہیں۔

انہوں نے اراکین ایم کیو ایم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تفریق آپ لوگوں نے پیدا کی اور لسانیت کی باتیں آپ نے کی ہیں آپ لوگوں کوعوام کو تقسیم کرنے کے بجائے کچھ نہیں ملتا اورنہ ہی اب آپ کو دوبارہ دہشت گردی اورچائنا کٹنگ کا موقع ملے گا، سندھ کے لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ان لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ لوگ بے وقوف بننے والے نہیں۔

زرائع کے مطابق جہاں بجٹ سیشن میں وزیراعلیٰ نے ایم کیو ایم کو تنقید کا نشانہ بنایا تو دوسری طرف وزیراعلٰی سندھ اپوزیشن جماعت ایم کیو ایم سے اسمبلی سے بجٹ منظورکرانے کی کوششیں تیزکردیں ہیں جس کی بنیادی وجہ اسمبلی تحلیل ہونے کا خدشہ ہے جس کا اظہار انہوں نے اپنی تقریرمیں بھی کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top