The news is by your side.

Advertisement

‘وزیراعظم کو پورے ملک اور عوام کی زندگیوں کا سوچ کر فیصلے کرنے چاہیئں’

اسلام آباد : وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو پورے ملک اور عوام کی زندگیوں کا سوچ کر فیصلے کرنے چاہیئں۔ کئی جگہوں پر ایس او پیز فالو نہیں ہورہے، شہریوں کو الزام نہیں پیغام دیں گے کہ اس وبا کو سنجیدہ لیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نیب پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا سولر لائٹس منصوبے کے حوالے سے وضاحت کیلئے بلایاگیا، سولرلائٹس منصوبےکے وقت میں وزیرخزانہ تھا ، وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ 15-2014 میں میونسپل اورٹاؤن کمیٹی نے سولر لائٹ کی اسکیم دی تھی ، نیب کے سوالات کے جوابات دےدیئے ، آئین کےمطابق بجٹ سے ہٹ کراسکیم کی اجازت دےسکتی ہے، ہم نے اسمبلی کی منظوری کے بعد یہ اسکیم شروع کی تھی، سوال نامہ ابھی نہیں دیاگیا جب ملےگا تو جواب دوں گا۔

مراد علی شاہ نے کہا ہم اپنے لوگوں کی اس وبا سے زندگی بچانے کی کوشش کررہےہیں، زندگی اورموت اللہ کے ہاتھ میں ہے، کئی جگہوں پر ایس او پیز فالو نہیں ہورہے، اس وقت وبا سے ہمارا ملک اورپوری دنیا مبتلا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مختلف پیغامات گئے ،اس کی وجہ سے عوام کو قصوروار نہیں ٹھہراؤں گا، ہم سب سے متفقہ پیغام جاناچاہیےکہ یہ وباجان لیوا ہے، اسلام آباد میں یہ وبا کراچی سے زیادہ پھیلی ہے ، ہرایک کو جان پیاری ہے.

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا میں نے ہر کام ڈاکٹرز،اورمتعلقہ حکام کی مشاورت سے کیا، اس وبا پر سب نے مل کر فیصلہ کرناہے ، سندھ پاکستان کا حصہ ہے یہ کوئی الگ جزیرہ نہیں، سندھ آنے کیلئے کوئی ویزے کی ضرورت نہیں ہے.

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ نیب 100بار بلائے ،پریشر میں نہیں آتے، کسی کے بارے میں اپنی ذاتی رائے دینا نہیں چاہتاہوں، مزدور اس وبا سے مرگیا تو زندگی بھر اس کے بچوں کو کون کھلائے گا ؟ وزیراعظم کو پورے ملک کاسوچ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ سندھ میں کوروناسےکسی کاانتقال ہواہے توتمام ریکارڈموجود ہے ،کئی اموات ہوئیں ،کسی کاپی سی آرٹیسٹ نہیں ہواتوکورونانہیں کہاجاسکتا، کسی نے اسٹیل مل میں کھڑاہوکرکہاتھامیں مزدوروں کیساتھ ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں