The news is by your side.

سید مراد علی شاہ  کی زیر صدات سندھ کابینہ کا اجلاس

کراچی: وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت سندھ کابینہ کا اجلاس ہوا گنے کی قیمت، آباد گاروں اور شوگر مل مالکان کے درمیان قیمت کے مسئلے پر غور کیا گیا۔

 اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ محکمہ زراعت کو اجازت دی جائے کہ وہ اسٹیک ہولڈرز کے لیے قابل عمل حل تلاش کرنے کے لیے مزید کوشش کرے۔

اجلاس کے دوران کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر زراعت و داخلہ سہیل انور سیال نے کہا کہ شوگر کین کنٹرول بورڈ کی روشنی میں گنے کی قیمت 182 روپے فی 40 کلو گرام مقرر کی گئی تھی جسے مل مالکان نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جس کے متعلق عدالت نے محکمہ زراعت کو ہدایت کی ہے کہ وہ آبادی گاروں اور مل مالکان کے مابین تصفیے کے حل کی کوشش کرے۔

وزیر داخلہ سہیل انور سیال کا کہنا تھا کہ  انہوں نے آبادگاروں اور مل مالکان کے ساتھ متعدد اجلاس منعقد کیے، آبادگاروں کا مطالبہ216روپے فی 40 کلوگرام کا تھا جبکہ مل مالکان 132روپے فی 40کلوگرام پر کھڑے تھے، محکمہ زراعت نے کم سے کم قیمت 142 روپے فی40کلوگرام تجویز کی مگر دونوں پارٹیوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کابینہ کو بتایا کہ سندھ حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے درخواست کی ہے کہ وہ سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارنٹر شپ کو بہتر کریں اور اسے مزید  توسیع دیں ۔

وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کی زیر صدارت مزکورہ کابینہ نے  معاملے کا بغور جائزہ لیا اور بالآخر اس نتیجے پر پہنچی کہ  صوبائی حکومت سبسڈی کی اجازت نہیں دے سکتی۔

محکمہ زراعت کو ہدایت کی گئی کہ وہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک اور اجلاس منعقد کریں اور عدالت کے مشورے کے تحت مسئلے کا قابلِ عمل حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں