site
stats
پاکستان

سینٹرل جیل سے متعلق انکشافات، وزیر اعلیٰ کا سی ٹی ڈی کو تحقیقات کا حکم

Murad Ali Shah

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ نے سینٹرل جیل سے متعلق انکشافات پر اے آئی جی محکمہ انسداد دہشت گردی کو تحقیقات کا حکم دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے جرم ہو رہے ہیں تو قابل معافی نہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز سینٹرل جیل سے کالعدم شدت پسند تنظیم داعش کے لیے بھرتیوں، منشیات فروشی اور قیدیوں سے اغوا برائے تاوان کی کارروائیاں کروانے کا انکشاف سامنے آیا تھا جس نے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔

مزید پڑھیں: سینٹرل جیل سے داعش کے لیے بھرتیوں‌ کا انکشاف

وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ انسداد دہشت گردی کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔

وزیر اعلیٰ نے دریافت کیا کہ کیا جیل حکام بھی ملزمان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں؟ انہوں نے حکم دیا کہ جس قیدی نےانکشاف کیا ہے اس کا بیان ریکارڈ کیا جائے۔ ایسی سرگرمیوں میں کوئی ملوث ہے تو اسے سزا دی جائے۔

دوسری جانب آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے سینٹرل جیل میں داعش کے لیے بھرتیوں کی خبر کو رد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش کی بات میں صداقت نہیں، قیدی سے اغوا کی وارداتیں بھی نہیں کروائی جاسکتیں۔

ڈی آئی جی جیل کا کہنا تھا کہ قیدی تاج محمد کے انکشاف پر تحقیقات شروع کردی ہیں۔ وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال نے بھی اے آر وائی نیوز کی خبر پر انکوائری کمیٹی بنانے اور ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top