site
stats
سندھ

وزیراعلیٰ سندھ کا عدلیہ کی سیکیورٹی کیلئے علیحدہ یونٹ تشکیل دینے کا حکم

کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے پولیس کو یہ ہدایت کی ہے کہ عدلیہ کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لئے ان کے مشورے رہنمائی اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک علیحدہ یونٹ یا ونگ تشکیل دیاجائے اور کسی بھی قسم کے مسائل پیدا نہیں ہونے چاہئیں۔

انہوں نے اس بات کا فیصلہ وزیراعلیٰ ہاوٴس میں عدلیہ کی سیکیورٹی سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلا س میں صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورو، وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے قانون مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن ، آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ ،وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری علم الدین بلو،سیکریٹری قانون اور داخلہ و دیگر موجود تھے۔

آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو اویس شاہ کے اغوا سے متعلق بریفینگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے دستیاب وسائل سے بھرپور طریقے سے استفادہ کرتے ہوئے اس کیس پر کام کر رہے ہیں اورانشاء اللہ بہت جلد ہم اویس شاہ کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنائیں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ کو بریفینگ دیتے ہوئے آئی جی سندھ نے بتایا کہ عدلیہ کی سیکیورٹی کے لئے 2670پولیس فورس کے اہلکار فرائض انجام دے رہے ہیں جس میں سے 1200پولیس اہلکار سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ کے ججوں کی سیکیورٹی پر مامور ہیں اس کے علاوہ رینجرز کے اہلکار بھی انکے ساتھ ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری سندھ اور آئی جی پولیس کو ہدایت کی کہ وہ جوڈیشری کی نچلی سطح سے لے کر ٹاپ جوڈیشری تک سیکیورٹی کے لئے علیحدہ ونگ یا یونٹ تشکیل دیا جائے مگر یہ مکینزم بہت زیادہ مستحکم جب ہوگا اگرجج صاحبان کی رہنمائی، ہدایات اور مشاورت بھی شامل ہو جائے۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے امجد صابری قتل کیس کا بھی جائزہ لیا اور اس حوالے سے ضروری ہدایات جاری کیں انہوں نے شہر کی سیکیورٹی کے حوالے سے مجموعی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top