The news is by your side.

Advertisement

سمندری بڑھاؤکو روکنے کیلئے باربارآواز اٹھائی، قائم علی شاہ

کراچی : وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ کوٹری ڈاؤن اسٹریم پرکم سے کم 10ملین ایکڑ فٹ پانی چھوڑنے کیلئے انہوں نے بار بار آواز اٹھائی تاکہ سمندر کی انٹریوژن کو روکا جا سکے، لیکن ان کی کسی نے ایک نہ سنی اوراب سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقیات کی اپنی رپورٹ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ سندھ کی 22لاکھ ایکڑ زمین سمندر نے تجاوز کرلی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج وزیراعلیٰ ہاوٴس آئے ہوئے سینیٹر ڈاکٹر کریم خواجہ سے ملاقات کے دوران کیا جنہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو سینیٹ کی ذیلی کمیٹی کی طرف سے سمندر ی انٹریوژن کے حوالے سے مرتب کی گئی50 صفحات پرمشتمل رپورٹ پیش کی۔

سینیٹر ڈاکٹر کریم خواجہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دی کہ انہوں نے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقیات کی سربراہی کی اور سمندری انٹریوژن اور ڈاوٴن اسٹریم تک پانی چھوڑنے کی ضروریات کے حوالے سے تحقیق کی۔

انہوں نے بتایا کہ سینیٹ کی ذیلی کمیٹی اس نتیجہ پر پہنچی کہ سمندر ی انٹریوژن کو روکنے کیلئے کم از کم 10ایم اے ایف پانی کی اشد ضرورت ہے، ورنہ سمندر زمین کو کھاتاجائے گا،حالانکہ 1991کے پانی معاہدے میں کوٹری ڈاوٴن اسٹریم تک 10ایم اے ایف پانی چھوڑنے کا مطالبہ شامل ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ وفاقی حکومت پر بار بار زور دیتے رہے کہ پانی معاہدے پر من و عن عمل کرالیا جائے لیکن مرکز میں انکی کسی نے ایک نہ سنی، ڈاکٹر کریم خواجہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو مشورہ دیا کہ سندھ حکومت کو وزیراعظم پاکستان پر زور دیناچاہے کہ وہ اس معاملے پر مشترکہ مفاداتی کونسل کا خصوصی اجلاس بلائیں اور یہ معاملہ اٹھائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے یہ بھی تجویز پیش کی ہے کہ ٹھٹھہ کے سرکریک کے علاقے سے کراچی تک کوسٹل ہائی وے کی تعمیر شروع کی جائے تاکہ سمندری تجاوز ات کو روکا جاسکے اور یہ تجویز کردہ ہائی وے سمندری انٹریوژن کے مقابلے میں ایک دیوار ثابت ہوگا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ سندھ گورنمنٹ کی ٹیم کو سمندری انٹریوژن کے حوالے سے فوری طور پر حرکت میں لائیں گے اور وفاقی حکومت پر پانی معاہدہ کے تحت اس اہم اشو کے حوالے سے ضروری اقدامات اٹھانے اور اپنا کردار ادا کرنے کیلئے زور دیں گے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں