The news is by your side.

Advertisement

میئر کراچی کو اختیارات دے کر چائنا کٹنگ کا رواج زندہ نہیں کرسکتے، وزیراعلیٰ

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان نے میئر کراچی کے پریس کانفرنس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت ایسے اختیارات کسی کو نہیں دے سکتی جس کے ذریعے شہر میں چائنا کٹنگ کا رواج دوبارہ زندہ ہو جائے۔

وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان میں ترجمان نے کہاکہ میئر کراچی نے 100 دن کی صفائی مہم میں صرف ایک دن صفائی کا کام فوٹو سیشن کے لیے کیا اور بقیہ 99 دن اختیارات کا رونا روتے رہے۔

ترجمان کے مطابق سندھ حکومت کے ایم سی کو 50 کروڑ روپے کا سالانہ گرانٹ جاری کرتی ہے جبکہ ڈسٹرکٹ اے پی ڈی کی طرف سے بھی 4 بلین روپے دیے گئے ہیں، فنڈز کی فراہمی کے باوجود میئر کراچی کی جانب سے اختیارات کی بات سمجھ سے بالاتر ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کسی کو ایسے اختیارات نہیں دے سکتی جس کے ذریعے شہر میں دوبارہ چائنا کٹنگ کا رواج عام ہوجائے اور فلاحی پلاٹوں کو رہائشی اور کمرشل کر کے فروخت کیا جائے اور شہر کو جب چاہے ہائی جیک کر کے ندی نالوں پر قبضے کر کے سرکاری اراضی پر  ناجائز  تجاوزات کر کے شادی ہال بنائے جائیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان نے وسیم اختر کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’میئر کراچی کے ایم سی کے گھوسٹ ملازمین کو نوکری سے فارغ کریں اور پینشن اکاؤنٹس پر ٹھیک طریقے سے نظر رکھتے ہوئے اپنے وسائل کو بڑھائیں‘‘۔

ترجمان وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’’آپ کو الیکشن میں ہرانے کا ہمارا کوئی پلان نہیں، آپ اپنی کارکردگی کو دیکھ کر خود ہی شکست کہا رہے ہیں، آپ جب سہون جائیں تو میڈیا کو آگاہ کیجئے گا کہ سہون اسپتال میں کتنے ڈاکٹرز ہیں اور اس کے برعکس کراچی کے اسپتالوں میں کتنے ڈاکٹرز کی غیر قانونی بھرتیاں کی گئیں ہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے میئر کراچی کوکہا تھا کہ آپ اسکیم بنا کر لے آئیں آپ کو فنڈز دوں گا لیکن وسیم اختر کوئی اسکیم بنا کر نہیں لا سکے، حکومت صرف کاموں کی لسٹ پر پیسے جاری نہیں کر سکتی، 100دن کی ناکام مہم کی کارکردگی کا الزام سندھ حکومت پر لگانے کے بجائے کام کریں اور شہر کے مسائل حل کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں