The news is by your side.

Advertisement

مارواڑ میں کوئلے کی کانوں میں گیس دھماکا، اٹھارہ کان کن جاں بحق، آصف زرداری کا اظہار افسوس

کوئٹہ: نواحی علاقے مارواڑ میں کوئلے کی کانوں میں گیس دھماکے کے نتیجے میں دو حادثات میں اٹھارہ کان کن جاں بحق اور سولہ زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق گیس دھماکے کی وجہ سے قریبی کانیں بھی بیٹھ گئیں۔ ایک کان میں پھنسے پندرہ مزدوروں کومردہ حالت میں نکالا گیا جب کہ پانچ کان کنوں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

جاں بحق ہونے والوں میں ایک امدادی کارکن بھی شامل ہے۔ ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والے کارکنوں میں پندرہ کارکن امدادی کارروائیوں کے دوران بے ہوش ہوگئے جنھیں بی ایم سی اور سول اسپتال منتقل کیا گیا۔

دوسرے حادثے میں بی ایم ڈی سی کے قریب لیز نمبر اٹھارہ میں نو کان کن دب گئے تھے۔ ملبے سے دو کان کنوں کی لاشیں نکال لی گئیں جب کہ دو کو زندہ نکال لیا گیا۔

ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ پانچ کان کن تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جنھیں نکالنے کی سرتوڑ کوششیں کی جارہی ہیں تاہم حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے بلوچستان میں کوئلے کی کان میں حادثے پر افسوس کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا۔

انھوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت مزدوروں کے ورثا کو معاوضہ ادا کرے اور حادثے کے زخمیوں کی زندگی بچا کر فوری امداد کا اعلان کرے۔ انھوں نے ہدایت کی کہ پیپلز پارٹی کےعہدے دار بھی متاثرین کی امداد کریں۔

بلوچستان میں کوئلے کی کان میں دھماکہ،3کان کن جاں بحق

واضح رہے کہ مارواڑ کی کانوں میں آئے روز اس طرح کے حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ بلوچستان میں دیگر صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلہ کی کان کنی یہاں کی ایک بڑی صنعت ہے۔ یہاں کے متعدد اضلاع لورالائی، کچھی، ہرنائی اور کوئٹہ کے پہاڑی علاقوں میں بڑی تعداد میں کوئلہ کی کانیں ہیں جن میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کام کرتی ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں