اسلام آباد : اتحادی حکومت پندرہ ماہ کی کارکردگی میں اپنے مقدمات ختم کروانے میں سرفہرست رہی، نیب قانون میں تبدیلی سے فائدہ اٹھانے والوں میں آصف علی زرداری سب سے آگے رہے جبکہ نواز شریف، شہباز شریف، حمزہ شہباز ،مراد علی شاہ ،سلیم مانڈوی والا و دیگر ریلیف لینے والوں میں شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اتحادی حکومت نے 15 ماہ میں درجنوں مقدمات سے ریلیف حاصل کیا، دس اپریل 2022 کو اقتدار سنبھالے والی اتحادی حکومت نے آتے ہیں نیب ترمیم کا سہارا لیتے ہوئے اپنے درجنوں کیس بند کروادیے یا کیس واپس متعلقہ فورم کو بھجوادیے۔
نیب ترامیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں وزیراعظم شہباز شریف، آصف زرداری اور نوازشریف بھی شامل تاہم آصف علی زرداری سب سے آگے رہے۔
نیب ترمیمی ایکٹ کے تحت آصف علی زرداری کے خلاف نیب ریفرنسز توشہ خانہ ، میگا منی لانڈرنگ ، پنک ریزیڈنسی ، ٹھٹھہ واٹر سپلائی اور آٹھ ارب کی ٹرانزیکشن کے نیب کیسز نیب کو واپس بھیج دیے گئے۔
اتحادی حکومت میں دیگر بڑے کیسوں میں نواز شریف کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس اور پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کیس، یوسف رضا گیلانی کے خلاف غیر قانونی اشتہارات ریفرنس اور چیئرمین اوگرا تعیناتی ریفرنس، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے خلاف نوری آباد پاور پلانٹ مبینہ منی لانڈرنگ کیس احتساب عدالت نے اینٹی کرپشن کراچی کو بھیج دیا۔
سلیم مانڈوی والا کے خلاف کڈنی ہل ریفرنس، فرزانہ راجہ کے خلاف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ریفرنس، لیگی رہنما و سابق گورنر کے پی سردار مہتاب کے خلاف پی آئی اے میں غیر قانونی بھرتیوں کا نیب ریفرنس نیب کو واپس ہوگیا۔
اکتوبر 2022 میں لاہور کی خصوصی عدالت نے ایف آئی اے کے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو مقدمے سے بری کیا جبکہ جولائی 2023 میں لاہور کی احتساب عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شہباز سمیت دیگر افراد کو منی لانڈرنگ ریفرنس میں بری کردیا۔
آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید، غنی مجید بھی نیب ترامیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں شامل رہے، جن کے خلاف نیب کیسز عدالت نے واپس نیب کو بھجوائے۔
دوسری جانب مریم نواز ، کیپٹن ر صفدر اور احسن اقبال نے نیب ترمیم کا سہارا نہیں لیا، تینوں کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے میرٹ پر بری کیا۔


