The news is by your side.

Advertisement

ایک کوبرا سانپ نے جانوروں کی اسمگلنگ کا نیٹ ورک کس طرح بے نقاب کیا؟

برازیل میں ایک طالبعلم کو کاٹنے والا ایک کوبرا سانپ اس وقت مشہور ہوگیا جب اس کی وجہ سے جانوروں کی اسمگلنگ کرنے والا گروہ حکام کی گرفت میں آگیا۔

ایشیا میں پائے جانے والے اس نایاب کوبرا نے برازیل کے شہر برازیلیا میں ایک 22 سالہ طالبعلم کو کاٹ لیا تھا، اس سانپ کے زہر کا تریاق نہایت نایاب تھا جس کے لیے ڈاکٹرز نے بھاگ دوڑ شروع کردی۔

کوبرا اس طالبعلم کے فلیٹ تک کیسے پہنچا، پولیس جب اس معاملے کی تفتیش کرنا شروع ہوئی تو انکشاف ہوا کہ طالبعلم کے ایک دوست کے پاس نایاب اقسام کے 16 سانپ، 3 شارکس، اور نایاب چھپکلی سمیت دیگر جانور موجود ہیں۔

پولیس کی اس تفتیش کے نتیجے میں اب تک برازیل کے محکمہ ماحولیات کے 2 افسران کو معطل کیا جاچکا ہے جن پر شبہ ہے کہ انہوں نے اس گروہ کو یہ نایاب جانور درآمد کرنے کا پرمٹ جاری کیا۔

کوبرا کا نشانہ بننے والے طالبعلم کی والدہ اور سوتیلے والد سے بھی تفتیش کی جارہی ہے اور فی الحال ان پر 16 سو ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ طالبعلم 6 دن اسپتال میں رہا اور گھر واپسی کے بعد پولیس نے اسے بھی شامل تفتیش کرلیا۔

بعد ازاں پولیس نے کوبرا کو ایک شاپنگ مال کے نزدیک سے پکڑ لیا جو طالبعلم کے دوستوں نے ثبوت مٹانے کی خاطر آزاد چھوڑ دیا تھا۔

واقعے کے بعد پورے برازیل میں یہ کوبرا ایک سلیبرٹی کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔

کوبرا کے نام سے کسی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بھی اکاؤنٹ بنا لیا جسے 50 ہزار افراد فالو کرچکے ہیں۔

اس اکاؤنٹ پر پوسٹ کیے جانے والے ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ صرف ایک ہفتے کے اندر میں نے خود کو قید کرنے والوں سے بدلہ لے لیا، جانوروں کی اسمگلنگ کا ایک نیٹ ورک بے نقاب کردیا، اپنے 16 دوستوں اور شارکس کی مدد کی اور جانوروں کی اسمگلنگ کرنے والوں کو خوفزدہ دیا۔

مذکورہ کوبرا کو برازیلیا کے چڑیا گھر میں رکھا گیا ہے اور اسے برازیل کے سب سے مشہور کوبرا کا نام دیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں