کراچی : کئی سالوں تک کوکین ڈیلر پنکی کو گرفتار نہ کئے جانے پر پولیس کارکردگی پرسوال اٹھ گئے، 2021 سے منشیات کے کیسز میں پنکی کا نام سامنے آیا لیکن پولیس خاموش رہی۔
تفصیلات کے مطابق کراچی پولیس کی انتہائی مطلوب اور مفرور منشیات فروش انمول عرف پنکی کی گرفتاری نے جہاں ایک بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ہے، وہیں پولیس کی گزشتہ کئی سالوں کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ ملزمہ گزشتہ تین سالوں سے 10 مختلف مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھی، لیکن وہ مسلسل قانون کی آنکھوں میں دھول جھونکتی رہی۔
تحقیقاتی ذرائع نے بتایا کہ انمول پنکی کا نام پہلی بار جولائی 2021 میں منظرِ عام پر آیا جب تھانہ گزری کی حدود میں منشیات فروشی کے الزام میں ایک خاتون اور مرد کو گرفتار کیا گیا۔
دورانِ تفتیش ان ملزمان نے انکشاف کیا تھا کہ وہ انمول پنکی کے گروہ کا حصہ ہیں اور اسی کے کہنے پر منشیات سپلائی کرتے ہیں۔
اسی طرح نومبر 2021 میں تھانہ درخشاں میں ایک اور مقدمہ درج ہوا جس میں گرفتار ہونے والے ملزم نے بھی اعتراف کیا کہ وہ پنکی کے منظم نیٹ ورک کے لیے کام کر رہا ہے۔
حیران کن طور پر 2021 میں نیٹ ورک کے کارندوں کی گرفتاری اور سرغنہ کے طور پر انمول پنکی کا نام واضح طور پر سامنے آنے کے باوجود پولیس نے اسے گرفتار کرنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔
گزری اور درخشاں سمیت مختلف تھانوں میں 10 مقدمات درج ہونے کے باوجود ملزمہ کا مفرور رہنا کئی شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔
کئی سالوں کی پراسرار خاموشی کے بعد اب جب ملزمہ کی گرفتاری عمل میں آئی ہے، تو اس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام پرانے مقدمات کا ریکارڈ اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ ملزمہ کو سخت سزا دلوائی جا سکے۔ تاہم، ماضی کی کوتاہیوں پر اعلیٰ حکام کی جانب سے کسی محکمانہ کارروائی کا تذکرہ تاحال سامنے نہیں آیا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


