منگل, اگست 11, 2026
اشتہار

کاکروچ بمقابلہ انسان

اشتہار

حیرت انگیز

تحریر: عمران الرحمٰن خان

سنتے ہیں آج سے کئی عشروں پہلے کسی فارغ سائنس داں نے یہ پتا لگا لیا تھا کہ نیوکلیئر دھماکے میں زندہ بچ جانے والی واحد "عظیم” ہستی کاکروچ کی ہوگی۔ میرا ماننا ہے کہ یہ بات اسی زمانے میں کاکروچوں کو بھی معلوم ہوگئی تھی اور ان کے اس چھوٹے سے دماغ میں یہ خناس بیٹھ گیا کہ یہ دھرتی تو بنی ہی صرف ان کے لیے ہے۔ انسان تو بس جب جنت سے نکالے گئے تو نسبتاً قریب ترین سیارہ ہونے کی وجہ سے زمین کی کششِ ثقل میں اٹک گئے اور پھر یہیں رچ بس گئے، اور نہ صرف رچ بس گئے بلکہ پوری ہٹ دھرمی کے ساتھ خود کو "زمیں زاد” کہلوانے لگے۔

ہر کاکروچ خود کو انسانوں سے زیادہ ہوشیار، سمجھدار بلکہ "سپر مین” سمجھتا ہے اور اسی غلط فہمی اور اکڑ میں انسانوں کے درمیان اپنی جگہ بنانے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔ جیسے کہ آپ نے بھی نوٹ کیا ہوگا کہ حشرات الارض کی پوری کائنات میں یہ واحد "نڈر” مخلوق ہے جو انسان کو دیکھ کر ڈرنے اور چھپنے کے بجائے الٹا انسان کی طرف ہی فل سپیڈ میں دوڑ لگاتا ہے۔ پھر اسی بلاوجہ کی "طرم خانی” دکھانے کے چکر میں انسان کے جوتے کے نیچے آکر "پٹ” سے اپنی جان کھو بیٹھتا ہے۔

اس کم عقل کو یہ تو پتا چل گیا کہ یہ نیوکلیئر اٹیک جھیل جائے گا، لیکن اس کے بزرگ اس کو یہ وصیت کرنا بھول گئے کہ میاں! وہ نیوکلیئر بم بھی انسانوں کے ہی بنائے ہوئے ہیں۔ دراصل یہ قدرت کی طرف سے ہی تھا کہ جب کبھی نیوکلیئر دھماکہ ہو اور تباہی کا اندازہ لگانے والی انسانی ٹیمیں سروے کرنے آئیں، تو اس ہولناک ماحول میں ان کی تفریح کے لیے بھی کچھ ہونا چاہیے۔ یعنی تابکاری سے بھرے ماحول میں، مخصوص لباس اور بھاری بوٹوں میں خود کو چھپائے، پسینے سے شرابور کوئی سرویئر جب کسی زندہ کاکروچ کو دیکھے، تو اپنے جوتے سے اسے کچلے اور اس کی "پٹ پٹ” کی آوازوں سے اپنا دل بہلا سکے۔

دوسرے شریف حشرات کے مقابلے میں کاکروچ کی غیرذمہ دارانہ اور جذباتی طبیعت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ یہ کمبخت اپنے بل سے بال بچوں کے لیے دو وقت کا دانہ جمع کرنے نکلتا ہے، لیکن راستے میں کوئی انسان نظر آتے ہی اس کے اندر کا "سلطان راہی” جاگ جاتا ہے۔ یہ دانا دنکا بھول کر سیدھا انسان سے بھڑ جاتا ہے۔ نتیجے میں ایک ہلکی سی "پٹ” کی آواز اور قصہ تمام! لیکن شاید مرتے ہوئے بھی کاکروچ کو ایسا لگتا ہے کہ یہ آواز دراصل اس کا کوئی "خودکش حملہ” تھا، جس کی دھمک سے انسان کی پوری ٹانگ نہ سہی، کم سے کم پاؤں تو ہمیشہ کے لیے ناکارہ ہو ہی گیا ہوگا۔

کچھ کاکروچ ذرا ماڈرن قسم کے ہوتے ہیں جو اپنی ڈائٹ اور وزن وغیرہ کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ یہ جمناسٹک کے ماہر کاکروچ دیواروں سے زمین پر چھلانگیں لگا لگا کر، کسی نہ کسی طرح ہوا میں اڑنے کی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ ان اڑنے والے کاکروچوں کی تو "ٹور” (ٹشن) ہی الگ ہوتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ انسان پر ان کی یہ لینڈنگ "آخری پرواز” ثابت ہوگی، جوشِ جذبات میں یہ سب بھول جاتے ہیں۔ اور کہیں اگر ان کو کسی خاتون کے اوپر لینڈنگ کا سنہری موقع میسر آجائے، تو یہ کمبخت بے شرمی کی ساری حدود پھلانگ جاتے ہیں۔ اس کے بعد خاتون کی جو چیخیں فضا میں بلند ہوتی ہیں اور جو افراتفری مچتی ہے، اسے دیکھ کر کاکروچ کا سیزنل ائیر شو کامیاب ہوجاتا ہے، بھلے بعد میں وہ کسی جھاڑو کی زد میں آکر شہید ہی کیوں نہ ہو جائے۔

انسان اور کاکروچ کی یہ جنگ ازل سے جاری ہے اور ابد تک رہے گی۔ کاکروچ چاہے جتنا بھی اڑ لے، جتنی بھی باڈی بلڈنگ کر لے، اور خود کو نیوکلیئر پروف سمجھ لے، اسے یہ حقیقت ماننا ہوگی کہ انسان کے پاس "چپلیٹ تھراپی” (چپل مارنے کی تکنیک) اور "mortein” نامی وہ کیمیاوی ہتھیار موجود ہیں جن کا توڑ کاکروچ الیون کے پاس آج تک نہیں آیا۔

چنانچہ کاکروچوں کو ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ وہ زمین کی ملکیت کا یہ خناس اپنے دماغ سے نکالیں، ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے جہاں بڑے بڑے ڈائناسارز کا نام و نشان مٹا دیا، وہاں ایک کاکروچ کی اوقات ہی کیا ہے! انسان اشرف المخلوقات تھا، ہے اور کاکروچ کی اگلی سات نسلوں تک رہے گا۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں