نئی دہلی (20 مئی 2026): بھارت میں جین زیز نے ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے نام سے عجیب تحریک کو جنم دے دیا ہے، جو کہ انڈیا کے سپریم کورٹ کے اعلیٰ جج کے بیان کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے، اور انھوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب انڈیا کو گٹر بناؤ گے تو یہاں سب کاکروچ ہی پیدا ہوں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے متنازع ریمارکس نے ایک سیاسی طنزیہ تحریک کو جنم دے دیا ہے، جس میں جین زی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں نوجوان آن لائن شامل ہو رہے ہیں۔
30 سالہ ابھیجیت ڈپکے گزشتہ 72 گھنٹوں سے بمشکل سوئے ہیں، کیوں کہ سوشل میڈیا پر انھیں مسلسل پیغامات موصول ہو رہے ہیں، ایک معمولی مذاق نے غیر متوقع طور پر بڑی شکل اختیار کر لی ہے۔ ابھیجیت ڈپکے بوسٹن یونیورسٹی سے تعلقاتِ عامہ میں حال ہی میں فارغ التحصیل ہوئے ہیں، اب ایک وسیع طنزیہ سیاسی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی قیادت کرتے نظر آ رہے ہیں۔
جمعے کے روز بھارت کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے کھلی عدالت میں سماعت کے دوران کہا کہ ’’طفیلیے‘‘ نظام پر حملہ کر رہے ہیں، اور نوجوانوں کو کاکروچ سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں ’’جنھیں نہ روزگار ملتا ہے اور نہ کسی پیشے میں جگہ۔‘‘
انھوں نے کہا ’’کچھ نوجوان کاکروچوں کی طرح ہیں، جنھیں نہ روزگار ملتا ہے اور نہ کسی پیشے میں جگہ۔ ان میں سے کچھ میڈیا میں چلے جاتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا، آر ٹی آئی کارکن یا دیگر کارکن بن جاتے ہیں، اور پھر سب پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔‘‘
بعد ازاں جسٹس کانت نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا تبصرہ جعلی ڈگریاں حاصل کرنے والے بعض افراد سے متعلق تھا، اور ان کا مقصد بھارت کے نوجوان نہیں تھے، جنھیں انھوں نے ’’ترقی یافتہ بھارت کے ستون‘‘ قرار دیا۔ تاہم ان کے ریمارکس پر شدید ردِعمل سامنے آیا، خاص طور پر جین زی کے انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے، جو بڑے پیمانے پر بے روزگاری، مہنگائی اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت کے 12 برس بعد بڑھتی مذہبی تقسیم کا سامنا کر رہے ہیں۔
View this post on Instagram
جب سوشل میڈیا پر غصہ بڑھنے لگا تو ڈپکے نے ہفتے کے روز X پر لکھا ’’اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو کیا ہوگا؟‘‘ اس مذاق اور اس کے پیچھے موجود شدید مایوسی کو آگے بڑھاتے ہوئے انھوں نے ’’کاکروچ جنتا پارٹی‘‘ کے نام سے ویب سائٹ اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس قائم کر دیے۔ یہ نام وزیر اعظم مودی کی بھارتیا جنتا پارٹی (بی جے پی) پر طنزیہ انداز میں رکھا گیا۔
ڈپکے نے شکاگو سے الجزیرہ کو بتایا ’’اقتدار میں بیٹھے لوگ شہریوں کو کاکروچ اور طفیلیہ سمجھتے ہیں۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ کاکروچ گندی جگہوں پر پیدا ہوتے ہیں۔ آج بھارت ایسا ہی بن چکا ہے۔‘‘
پارٹی ممبر شپ
کاکروچ جنتا پارٹی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ نے صرف تین دن میں 30 لاکھ فالوورز حاصل کر لیے ہیں، جب کہ ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ افراد گوگل فارم کے ذریعے پارٹی کی رکنیت حاصل کر چکے ہیں۔
پارٹی میں شامل ہونے والوں میں معروف سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں مغربی بنگال سے اپوزیشن رکن پارلیمان ماہوا موئترا اور پڑوسی ریاست بہار کے سابق رکن پارلیمان کیرتی آزاد شامل ہیں۔ بھارتی بیوروکریٹ اشیش جوشی، جو حال ہی میں وفاقی ملازمت سے ریٹائر ہوئے، بھی ابتدائی اراکین میں شامل ہیں۔
انھوں نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’گزشتہ ایک دہائی میں ملک میں بہت خوف پیدا ہو چکا ہے، اور لوگ بولنے سے ڈرتے ہیں۔ بھارت میں نفرت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح محسوس ہوتی ہے۔‘‘
Since some cockroaches are not happy with AI generated posters, here’s your chance to step up.
As Baapu said – “Be the change you wish to see.” pic.twitter.com/W6FiEy2tgO
— Cockroach Janta Party (@CJP_2029) May 18, 2026
60 سالہ جوشی کے مطابق نوجوانوں کو کاکروچ کہنا ایک اور پہلو بھی رکھتا ہے ’’کاکروچ سخت جان حشرات ہیں، وہ زندہ رہتے ہیں اور بہ ظاہر وہ ایک پارٹی بھی بنا سکتے ہیں اور آپ کے نظام پر چڑھ دوڑ سکتے ہیں۔‘‘
انڈیا جین زی
حالیہ برسوں میں جنوبی ایشیا جین زی کی تاریخی احتجاجی تحریکوں کا مرکز بنا رہا ہے، جنھوں نے نیپال، سری لنکا اور بنگلا دیش میں حکومتیں گرا دیں۔ دنیا کی سب سے بڑی آبادی والے ملک بھارت کو بھی کئی سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ اگرچہ معیشت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، مگر آمدنی میں عدم مساوات، بے روزگاری اور مہنگائی تاریخی سطح تک پہنچ چکی ہے۔
بھارت ہر سال 80 لاکھ سے زیادہ گریجویٹس پیدا کرتا ہے، مگر ان میں بے روزگاری کی شرح 29.1 فی صد ہے، جو ان افراد کے مقابلے میں 9 گنا زیادہ ہے جنھوں نے کبھی اسکول نہیں دیکھا۔ بھارت کی ایک چوتھائی سے زیادہ آبادی جین زی پر مشتمل ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادی ہے۔
اسی لیے چیف جسٹس کانت کے الفاظ نے نوجوانوں کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچائی۔ ان کے ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے جب امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے خلاف ملک بھر میں طلبہ احتجاج کر رہے تھے، جس کے نتیجے میں حکومت کے زیر انتظام میڈیکل داخلہ ٹیسٹ کو منسوخ کرنا پڑا۔
بھارت کی سپریم کورٹ کے ممتاز وکیل اور انسانی حقوق کے کارکن پرشانت بھوشن نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ’’چیف جسٹس کے تبصرے نوجوانوں اور کارکنوں کے خلاف گہرے تعصب اور نفرت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہی دراصل موجودہ حکومت کی سوچ بھی ہے۔‘‘
کاکروچ جنتا پارٹی کے اندر کی کہانی
ابھیجیت ڈپکے کی طنزیہ سیاسی جماعت سی جے پی نے رکنیت کے لیے 4 نکاتی اہلیت مقرر کر رکھی ہے: بے روزگار ہونا، سست ہونا، ہر وقت آن لائن رہنا، اور پیشہ ورانہ انداز میں غصہ نکالنے کی صلاحیت رکھنا۔
X پر پارٹی کا نعرہ ہے ’’نوجوانوں کا سیاسی محاذ، نوجوانوں کے ذریعے، نوجوانوں کے لیے۔ سیکولر – سوشلسٹ – جمہوری – سست۔‘‘ جب کہ انسٹاگرام پر پارٹی خود کو ’’سست، بے روزگار کاکروچوں کی یونین‘‘ قرار دیتی ہے اور جین زی کے نوجوانوں سے اس میں شامل ہونے کی اپیل کرتی ہے۔
پارٹی کا منشور بھی ایک طنزیہ انداز میں تیار کیا گیا ہے، جس میں مودی حکومت پر ووٹرز کو متاثر کرنے کے الزامات، حکومتی مؤقف کی حامی کارپوریٹ میڈیا، اور ریٹائرمنٹ کے بعد ججوں کو سرکاری عہدے دینے جیسے معاملات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ڈپکے نے بتایا کہ انھوں نے اپنی پہلی پوسٹ کے صرف 24 گھنٹوں کے اندر پارٹی کو آن لائن تشکیل دے دیا۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے کلاڈ، اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی جیسے مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کیے تاکہ پارٹی کا ڈیزائن اور منشور تیار کیا جا سکے۔ ان کا یہ اقدام دنیا بھر کی ان متبادل سیاسی تحریکوں کی روایت سے ملتا جلتا ہے، جو طنز، غیر روایتی انداز اور علامتی احتجاج کے ذریعے مرکزی دھارے کی سیاست کو چیلنج کرتی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


