The news is by your side.

Advertisement

رنگ گورا کرنے کی کریمز میں لال بیگوں کا استعمال

چین میں اس وقت انسانوں سے تین گنا زیادہ لال بیگ پائے جاتے ہیں

بیجنگ: چین کے ڈاکٹرز کی تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ جنوب مغربی صوبے سیچوان کے علاوہ مختلف علاقوں میں دوا ساز کمپنیاں اعلیٰ نسل کے امریکی لال بیگ کی افزائش کرکے سالانہ اربوں کاکروچ پیدا کررہی ہیں جن سے رنگ گورا کرنے کی کریمز سمیت مختلف ادویات تیار کی جاتی ہیں۔

لال بیگ کو ویسے تو عام لوگ گندگی یا بیماری کی نشانی سمجھتے ہیں تاہم گزشتہ کچھ سالوں سے طبی ماہرین ایسی ادویات تیار کررہے ہیں جن میں لال بیگ شامل کیے جاتے ہیں۔

ہانگ کانگ کے طبی جریدے میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق چین میں اس وقت انسانوں سے تین گنا زیادہ لال بیگ پائے جاتے ہیں جن کی افزائش مختلف دوا ساز کمپنیاں کرتی ہیں اور ان سے سالانہ لاکھوں ڈالر کماتی بھی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق لال بیگوں کی افزائش اتفاقی نہیں بلکہ اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جارہا ہے، چین کے مغربی صوبے سیچوان کے شہر شیکچانگ میں ایک کمپنی ایسی ہے جو سالانہ اعلیٰ نسل کے اربوں امریکی لال بیگ مصنوعی طریقے سے پیدا کر کے اُن کی افزائش کرتی ہے اور پھر انہیں ذیابیطس سمیت مختلف بیماریوں کی ادویات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:  چینی جوڑے کے سامان سے 200 زندہ لال بیگ برآمد

چین کے ڈاکٹرز کی تنظیم ’گڈ ڈاکٹرز‘ کے صدر فیونینگ گینگ کا کہنا تھا کہ لال بیگ کی افزائش کرنے والی فیکٹریاں یومیہ ہزاروں کاکروچز مختلف اسپتالوں کو پہنچاتی ہیں جس کے عوض انہیں بھاری معاوضہ ملتا ہے۔

فیونینگ کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ملک میں لال بیگوں کو مار کر ذیابیطس، السر اور جلدی بیماریوں سے نجات کے لیے ادویات تیار کی جاتی ہیں جبکہ خواتین کی خوبصورتی کے لیے بنائی جانے والی کریمز میں بھی لال بیگ شامل ہوتے ہیں‘۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق چین کے وسطی صوبے ہینان میں بھی لال بیگوں کی افزائش اور انہیں فروخت کرنے کا کام پروان چڑھ رہا ہے، ایک محتاط اندازے کے مطابق 30 کروڑ لال بیگوں کے لیے یومیہ 15 ٹن کچرا، ناقص غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ غذائی کچرے اور کھانے کو حکومت کی جانب سے تیار کردہ عالیشان اور کثیر المنزلہ عمارتوں میں پھینکا جاتا ہے جہاں کروڑوں کی تعداد میں لال بیگ موجود ہیں۔

چین کی مختلف دوا ساز کمپنیوں نے کھیلوں سے بڑے گراؤنڈ ان لال بیگوں کی افزائش کے لیے متعین کیے ہوئے ہیں جہاں سورج کی روشنی بالکل نہیں ہوتی اور اُن کے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں