The news is by your side.

Advertisement

کیا اصطلاحات سے حافظے پر بار پڑتا ہے؟

اصطلاح کی ضرورت ایسی نہیں ہے جس سے لوگ آگاہ نہ ہوں۔ اگر اصطلاحیں نہ ہوں تو ہم علمی مطالب کے ادا کرنے میں طولِ لاطائل سے کسی طرح نہیں بچ سکتے۔ جہاں ایک چھوٹے سے لفظ سے کام نکل سکتا ہے، وہاں بڑے بڑے لمبے جملے لکھنے پڑتے ہیں اور ان کو بار بار دہرانا پڑتا ہے۔ لکھنے والے کا وقت جدا ضایع ہوتا ہے اور پڑھنے والے کی طبیعت الگ ملول ہوتی ہے۔

اصطلاحیں درحقیقت اشارے ہیں جو خیالات کے مجموعوں کی طرف ذہن کو فوراً منتقل کر دیتے ہیں۔ بعض حضرات کی رائے ہے کہ اصطلاحیں وضع کرنے سے حافظہ پر بار پڑتا ہے۔ سہولت اسی میں ہے کہ ہر اصطلاح سے جو معنی مطلوب ہیں، وہ تشریح و تفصیل کے ساتھ بیان کر دیے جائیں مگر ایسا کرنے میں یہی دقت ہے کہ لکھنے والے اور پڑھنے والے دونوں کا وقت ضایع ہوتا ہے اور کاغذ کا صرفہ جدا ہوتا ہے۔

حافظہ پر بار پڑنے کی شکایت جو اِن حضرات نے کی ہے وہ بھی صحیح نہیں ہے، کیوں کہ جو شخص کسی علم یا فن کو سیکھنا چاہتا ہے، بس اسی علم یا فن کی اصطلاحیں اسے یاد کرنی پڑتی ہیں۔ اس سے یہ باز پرس نہیں کی جاتی کہ وہ تمام علوم و فنون کی اصطلاحیں کیوں نہیں جانتا؟

یورپ میں بھی جہاں تعلیم عام اور جبری ہے کوئی شخص ایسا نہیں ملے گا جو دنیا بھر کے علوم و فنون کی اصطلاحیں ازبر رکھتا ہو۔ ہر صاحبِ فن صرف اپنے فن کی اصطلاحات اور اس فن کی معلومات سے آگاہ ہوتا ہے۔

اصطلاحات ہی پر کیا موقوف ہے۔ اگر آپ عام زبان پر غور کریں تو ہر لفظ ایک آوازی اشارہ ہے جو خیالات کے ایک بڑے مجموعے کی طرف راہ نمائی کرتا ہے، لفظوں کے بنانے کی ضرورت ہی اس بنا پر پیش آئی کہ خیالات کے مجموعوں کو بول چال میں بار بار دہرانا نہ پڑے تاکہ بولنے والے اور سننے والے کا وقت ضایع نہ ہو اور ایک شخص کا مافی الضمیر دوسرے شخص کے دل میں آسانی سے اتر جائے۔

ان آوازی اشاروں سے جن کے مجموعے کا نام “زبان” ہے، بلاشبہ حافظہ پر کسی قدر بار پڑتا ہے، مگر یہ تھوڑی تکلیف، اُس بڑی تکلیف سے بچنے کے لیے گوارا کی گئی ہے جو اعضائی اشاروں سے کام لینے میں برداشت کرنی پڑتی تھی۔

جب زبان ایجاد نہیں ہوئی تھی تو آوازوں کی جگہ اعضائی اشاروں سے کام لیا جاتا تھا۔ ہر شخص اپنے دل کا مطلب دوسرے شخص کو سمجھانے کے لیے ہاتھ پاؤں اور آنکھوں کے اشاروں سے کام لیتا تھا۔ یہ اشارے عجیب و غریب اور مختلف قسم کے ہوتے تھے۔

چوں کہ آوازی اشاروں میں اعضائی اشاروں کی نسبت بہت کم تکلیف ہے، اس لیے الفاظ کی تعداد زبانوں میں رفتہ رفتہ بڑھتی گئی ہے اور ان کے یاد رکھنے کی کوشش برابر ہوتی رہی ہے۔ اس کا انجام یہ ہوا کہ الفاظ کے یاد رکھنے میں حافظہ پر جو بار پڑتا تھا، وہ بھی متواتر یاد کرنے کی مشق سے کم ہوتا گیا اور خود حافظے بھی قوی ہوتے گئے۔

چناں چہ مؤرخوں نے بیان کیا ہے کہ دنیا کی وہ قدیم قومیں جو سنسکرت، لاطینی، یونانی اور عربی زبان بولتی تھیں، ان کے حافظے بمقابلہ دیگر ہم عصر اقوام کے نہایت قوی تھے۔ یہ وہ زبانیں ہیں جن میں الفاظ کی تعداد بمقابلہ دیگر قدیم زبانوں کے بہت زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ ہم کو ایک اور اہم بات پر بھی غور کرنا چاہیے۔ الفاظ معلومات پر دلالت کرتے ہیں، اور الفاظ کی بہتات معلومات کی بہتات پر دلالت کرتی ہے۔ پس جس قوم کی زبان میں الفاظ کی تعداد کثیر ہے، اس کی معلومات کا دائرہ بھی بمقابلہ اس قوم کے جس کی زبان میں الفاظ کی قلت ہے نہایت وسیع ہوگا۔ اس بنا پر پہلی قوم بمقابلہ دوسری قوم لازمی طور پر زیادہ مہذب ہوگی۔

اس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو حضرات الفاظ کی افزائش کے شاکی ہیں اور حافظہ پر بار پڑنے کا عذر پیش کرتے ہیں، وہ گویا اپنی قوم کو تہذیب و تمدن سے دور بھگانے اور وحشت و بربریت کی طرف گھسیٹ کر لے جانا چاہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا زیادہ موزوں ہوگا کہ وہ اپنے ابنائے جنس کو ترقی کی بلندی سے نیچے اتار کر تنزل کے غار میں ڈھکیلنا چاہتے ہیں۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اگر ہم ترقی کرنا چاہتے ہیں، اگر ہم شائستہ اور مہذّب قوموں کی صف میں داخل ہونا چاہتے ہیں اور اگر ہم علوم و فنون حاصل کرنا زندگی کا اہم مقصد جانتے ہیں تو زبان میں جدید الفاظ اور اصطلاحات کے اضافہ سے ہم کو ڈرنا نہیں چاہیے کیوں کہ ترقی کے لیے اس بوجھ کا برداشت کرنا ناگزیر ہے۔

(مولوی وحید الدّین سلیم کی کتاب “وضعِ اصطلاحات” کے ایک باب سے اقتباسات، یہ کتاب 1954 میں شایع ہوئی تھی)

Comments

یہ بھی پڑھیں