لاہور سے کلکتہ کا سفر در پیش ہو تو دو ہی طریقے ہیں۔ مقدور ہو تو ہوائی جہاز میں سفر کیجئے۔ ناشتہ لاہور میں اور شام کا کھانا کلکتہ میں کھائیے اور مقدور نہ ہو تو تھوڑا سا کلورو فارم جیب میں رکھ کر سیکنڈ کلاس کے ڈبے میں بیٹھ جائیے۔ جونہی گاڑی روانہ ہو، اللہ کا نام لے کر کلورو فارم سونگھنا شروع کر دیجئے۔ جب آپ کو ہوش آئے گا۔ تو آپ اپنے آپ کو لکھنؤ کے اسٹیشن پر پائیں گے۔
ایک بار کلورو فارم پھر سونگھئے اور ہوش آنے تک بردوان پہنچ جائیے۔ بردوان سے ہوڑہ نزدیک ہے۔ اس لئے کلورو فارم کو احتیاط سے بیگ میں رکھ لیجئے کہ واپسی کے وقت کام آئے۔ اگر آپ اس طریقہ پر عمل نہیں کریں گے تو صبر اور انتظار کرتے کرتے چاہے آپ ختم ہو جائیں، سفر ختم نہیں ہوگا۔ آپ لاکھ جتن کریں، ہم سفرسے گپیں ہانکیں، رسائل کی ورق گردانی کریں، کلکتہ میل کو گالیاں دیں، جماہیاں لیں، لاحول پڑھیں، لیکن منزل قریب آتی نظر نہیں آئے گی۔
کلکتہ کی ہر چیز نرالی ہے۔ اس کو ہی لیجئے کہ کلکتہ نام کا کوئی ریلوے اسٹیشن نہیں، حالانکہ کلکتہ شہر میں درجنوں مقامی اسٹیشن ہیں۔ کلکتہ کی گھڑیاں باقی شہروں کی گھڑیوں سے ایک گھنٹہ آگے رہتی ہیں (اس بو العجبی کو کلکتہ ٹائم کہتے ہیں) کلکتہ میں لوگ بیڈ منٹن بجلی کی روشنی میں کھیلتے ہیں۔ ہوٹلوں میں پانی بوتلوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ کلکتہ میں ہندوستانی فلمیں بنتی ہیں جنہیں عموماً وہ لوگ ڈائریکٹ کرتے ہیں جو ہندوستانی نہیں جانتے۔ کلکتہ میں ’’س‘‘ ’’ش‘‘ ہو جاتا ہے۔ ٹانگہ، گھوڑا گاڑی اور شلوار ساڑھی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ویسے تو کلکتہ میں ہر صوبہ اور ہر قماش کا انسان دیکھنے میں آتا ہے لیکن سب سے دلچسپ آدمی کلکتہ کے اصلی باشندے ہیں۔ سانولے سلونے متین، بخل کی حد تک کفایت شعار، سادگی اور بھلمن ساہت کے پتلے، نگاہ اولین میں بنگالی لوگ بہت بھلے معلوم ہوتے ہیں لیکن ان سے گفتگو کرنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ہر بنگالی وہ نہیں جو وہ نظر آتا ہے۔ دراصل ہر بنگالی کی بات میں ایک نکتہ ہوتا ہے، جسے صرف ایک دوسرا بنگالی ہی سمجھ سکتا ہے۔ اگر آپ کوشش کر کے اس نکتہ کو پا بھی لیں تو بنگالی بابو جھٹ پینترا بدل کر ایک اور نکتہ پیدا کر دیتا ہے اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہتا ہے جب تک آپ چکرا کر اپنی ہار مان نہیں لیتے۔بنگالی بابو دو طرح سے اپنے حریف کو مرعوب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ باتیں بنا کر یا بالکل خاموش رہ کر۔ اگر وہ نوجوان ہے، تو بڑھ بڑھ کر باتیں کرے گا۔ اگر ادھیڑ عمر کا ہے تو فلسفیوں کے انداز میں گھنٹوں مراقبہ میں بیٹھا نظر آئے گا۔ بیشتر بنگالی چالیس برس کی عمر کو پہنچنے کے بعد مسکرانا اور ہنسنا ترک کر دیتے ہیں اور اونگھنا یا بڑبڑانا شروع کر دیتے ہیں۔ خدو خال کے اعتبار سے بنگالی لوگ دو قسموں میں بانٹے جا سکتے ہیں۔ بنگالی جن کا چہرہ فٹ بال یا رس گلا سے ملتا ہے اور بنگالی جن کا چہرہ بوتل یا بیلن سے مشابہت رکھتا ہے۔
اول الذکر کے گال ضرورت سے زیادہ پھولے ہوئے او ر موخر الذکر کے گال ضرورت سے زیادہ پچکے ہوئے ہوتے ہیں۔ کلکتہ میں حسن ملیح کی فراوانی ہے۔ اس شہر میں حسنِ صبح کی تلاش کرنا صحرا میں سبزہ زار کی جستجو کرنے کے مترادف ہے۔ چراغ لے کر بھی ڈھونڈھیں تو رخ روشن تو کیا ’’بجھی ہوئی شمع‘‘ بھی کہیں نظر نہیں آئے گی۔ ’’بالی عمریا‘‘، ’’پتلی کمریا‘‘ اور سانوری صورتیا‘ قدم قدم پر ملتی ہے لیکن وہ قندیلیں جن کی تجلی کے سامنے عشق کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں کلکتہ کے حصہ میں نہیں آئیں۔
کلکتہ میں زندگی صرف چار محوروں کے گرد گھومتی ہے۔ روپیہ، بوتل، گھوڑا، لڑکی۔ یہاں ہر شخص روپیہ کمانے کے لئے آتا ہے۔ سوائے پنجابیوں کے جن کا شغل ہر ملک اور ہر شہر میں روپیہ خرچ کرنا ہے۔ کروڑ پتی مارواڑی سیٹھ سے لے کر بنگالی رکشا کھینچنے والے تک ہر ایک شخص کی نگاہ کسی کی جیب پر ہے۔ روپیہ کمانے کی دھن میں لوگ اس برق رفتاری سے ادھر سے ادھر بھاگتے ہیں کہ انسان انہیں دیکھ کر بد حواس ہو جاتا ہے۔ یہاں کسی شخص کو ایک منٹ کی فرصت نہیں۔ تاجروں اور سوداگروں سے لدی ہوئی کاریں، ٹیمیں، ٹیکسیاں کلکتہ کی سڑکوں پر جب زناٹے بھرتی ہوئی گزرتی ہیں تو ایک نوارد کو یہ شک گذرتا ہے کہ وہ کلکتہ نہیں بلکہ لندن یا نیویارک کے مضافات میں آپہنچا ہے۔ ٹریفک کا یہ حال ہے کہ سڑک کو پار کرنے کے لئے کئی دفعہ پورے تیس منٹ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ آپ ہمت کر کے ایک یا دو گز آگے بڑھتے ہیں، دائیں طرف سے پچاس موٹریں اور بائیں طرف سے اتنی ہی ٹیمیں آپ کو للکار کر کرکہتی ہیں ’’خبردار‘‘ اگر کوئی شخص موٹر کے نیچے آ کر خود کشی کا ارادہ رکھتا ہو تو اس کے لئے کلکتہ کی سڑکیں نہایت موزوں ہیں۔
کلکتہ میں ایک مثل مشہور ہے کہ اگر آپ نے کلکتہ کی ریس نہیں دیکھی تو کچھ بھی نہیں دیکھا۔ کلکتہ کی ریس واقعی عجیب تماشا ہے۔ دیوانوں کا سب سے بڑا ہجوم دیکھنا مطلوب ہو تو کلکتہ کی ریس ضرور دیکھئے۔ اتنا بڑا ہجوم بڑے سے بڑے سیاسی جلسہ یا جلوس میں بھی آپ کو نظر نہیں آئے گا۔ اس ہجوم کو کہ جو تمام صوبوں کے لوگوں پر مشتمل ہوتا ہے، دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہندوستان کی آبادی چالیس کروڑ نہیں بلکہ اسی کروڑ ہے۔ ہر ایک شخص کے ہاتھ میں ریس کی کتاب ہے جس کا وہ اس انہماک سے مطالعہ کر رہا ہے جیسے وہ نہایت دلچسپ ناول ہو۔ ایک دوسرے سے ٹپ (TIP) لئے جا رہے ہیں۔ قیاس کے گھوڑے دوڑائے جا رہے ہیں۔ اپنے اپنے گھوڑے کی تعریف میں قصیدے کہے جا رہے ہیں۔ یک لخت گھنٹی بجتی ہے جوں جوں گھوڑے نزدیک آتے جاتے ہیں تماش بین گلا پھاڑ پھاڑ کر چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک بآواز بلند پکار رہا ہے، ’’بھائی صاحب، بھائی صاحب‘‘۔ دوسرا زور زور سے چیخ رہا ہے۔ ’’بھابی جان، بھابھی جان‘‘۔ یہ نعرہ سن کر ایک نوارد یہی سمجھتا ہے کہ بھائی صاحب، بھابی جان کی معیت میں ریس کورس میں تشریف لا رہے ہیں لیکن اسے بعد کو پتہ چلتا ہے کہ ’’بھائی صاحب‘‘ اور ’’بھابی جان‘‘ تو گھوڑوں کے نام ہیں۔ جس وقت فاصلہ دو ایک فرلانگ رہ جاتا ہے، اس وقت ہجوم کی حالت دیدنی ہوتی ہے۔ جو بیٹھے ہوئے ہیں وہ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ جو کھڑے ہیں وہ ناچنا شروع کر دیتے ہیں، جو ناچ رہے ہیں وہ ایک دوسرے سے بغلگیر ہونے لگتے ہیں۔
کلکتہ کی ریس کے بعد کلکتہ میں دوسری قابل دید چیز فلمی اسٹوڈیوز ہیں۔ یہ تقریباً سب کے سب ٹالی گنج میں واقع ہیں۔ ٹالی گنج ہوڑہ اسٹیشن سے کافی دور اور قبرستان کے کافی نزدیک ہے۔ چونکہ فلمیں بنانے والے شور و شغب اور تنقید و تبصرہ سے گھبراتے ہیں اس لئے انہوں نے اسٹوڈیوز قبرستان کی بغل میں بنائے ہیں۔ ہر ایک اسٹوڈیو کا ایک دربان ہوتا ہے جو اردو شاعری کے روایتی دربان کی طرح بے حد مغرور اور بد دماغ ہوتا ہے۔ جب تک آپ دس بارہ دفعہ کورنش بجا نہ لائیں آپ کو اسٹوڈیو کی حدود میں داخل نہیں ہونے دے گا۔ فلمی اسٹوڈیو چھوٹے پیمانے پر عجائب گھر ہوتا ہے۔ زیادہ صحیح الفاظ میں عجائب گھر اور چڑیا گھر کا مرکب ہوتا ہے۔ یہا ں ہر ایک شے اور ہر ایک شخص عجوبہ روزگار ہے۔
کلکتہ کے اسٹوڈیو ز میں عموماً ہر ایک شخص پرکسی دوسرے شخص کا دھوکا ہوتا ہے۔ مثلا جسے آپ مسخرا سمجھ رہے ہیں، وہ مسخرا نہیں ڈائریکٹر ہے۔ جسے آپ پنواڑی سمجھتے ہیں، وہ پنواڑی نہیں سیٹھ صاحب ہیں۔ جسے آپ نے بزرگ سمجھ کر سلام کیا ہے وہ بزرگ نہیں بلکہ چھوکرا ہے، جس نے مصنوعی داڑھی لگا رکھی ہے۔ جسے آپ نے اکسٹرا لڑکی سمجھ کر نظر انداز کر دیا ہے وہی در اصل ہیروئین ہے جن سرمگیں پلکوں کی آپ تعریف کر رہے ہیں وہ دراصل سر مگیں پلکیں نہیں بلکہ نہایت معمولی پلکیں ہیں جن پر ایک خاص مصالحہ لگایا گیا ہے۔ جس زلف دراز کی آپ غور سے دیکھ رہے ہیں وہ دراصل مانگے کی زلف دراز ہے۔ بعض اوقات اسٹوڈیو میں ہیرو، ڈائریکٹر اور پرڈیوسر میں تمیز کرنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے۔ عام طو پر جو شخص سب سے زیادہ شو ر مچائے وہ ڈائریکٹر، جو اکسٹرا لڑکیوں کے جھرمٹ میں کھڑا ہوا مسکرا رہا ہو وہ ہیرو اور جو ہیرو ئن کے ارد گرد منڈلا رہا ہو، وہ پروڈیوسر ہوتا ہے۔
(معروف طنز و مزاح نگار کنہیا لال کپور کی ایک تحریر سے چند پارے)
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


