The news is by your side.

Advertisement

بارہ سالہ طالب علم کا کارنامہ : چھٹیوں میں کروڑوں روپے کیسے کمائے؟

لندن: برطانیہ میں مقیم بچہ اسکول کی تعطیلات کے دوران کروڑ پتی بن گیا۔ 12 سالہ بن یامین احمد نے 4 لاکھ ڈالرز(تقریباً 6 کروڑ 66 لاکھ پاکستانی روپے) کمائے ہیں۔

مؤقر نشریاتی ادارے سی این بی سی کی رپورٹ کے مطابق بن یامین احمد نے (نان فنگبل ٹوکنز ) یا این ایف ٹیز کی کلیکشن کے ذریعے کروڑوں روپے کمائے ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بن یامین احمد جب 5 سال کا تھا تو اس وقت سے اس نے اپنے والد عمران احمد سے کمپیوٹر کوڈ سیکھنا شروع کیا تھا۔ عمران احمد بنیادی طور پر ویب ڈویلپر ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بن یامین احمد نے امسال این ایف ٹیز میں دلچسپی لینا شروع کی اور اپنے آرٹ ورکس کی کلیکشن سیریز کو فروخت کرنا شروع کیا جس کو اس نے ہزاروں منفرد پکسلیٹڈ وہیلز کی مدد سے تیار کیا تھا۔

بنیادی طور پر این ایف ٹیز ایسے ڈیجیٹل اثاثے ہوتے ہیں جو جے پیگز اور ویڈیو کلپس سمیت آرٹ کی دیگر اقسام کی نمائندگی کرتے ہیں۔

برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق بن یامین احمد نے پہلی این ایف ٹی کلیکشن موسم گرما کی ابتدا میں متعارف کرائی تھی۔ اس کلیکشن کو بنیامین نے خود کوڈ اور ڈیزائن کیا تھا لیکن وہ فروخت نہیں ہوسکی تھی۔

جون میں بن یامین احمد نے weird وہیلز نامی کلیکشن پر کام شروع کیا جس میں 3350 پکسلیٹڈ وہیلز مختلف رنگوں اور ٹوپیوں کے ساتھ تھی۔ 12 سالہ بن یامین احمد نے اس کلیکشن کے لیے کوڈ کو آن لائن ٹیوٹرلز اور ایک گیمنگ ایپ کے ذریعے سیکھا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اس کلیکشن کو جب جولائی میں متعارف کرایا گیا تو وہ صرف 9 گھنٹوں میں فروخت ہوگئی۔ بن یامین احمد کو اس وقت 80 ایتھر (بٹ کوائن جیسی ورچوئل کرنسی) سے زیادہ کی آمدنی ہوئی جو تقریباً 2 لاکھ 55 ہزار ڈالرز کے مساوی تھی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بنیامین احمد نے اس کے بعد مزید 30 ایتھر ری سیلز سے کمائے ( ہر ری سیل پر  بن یامین کو ڈھائی فیصد رائلٹی ملے گی) اور اب تک ساڑھے 3 لاکھ ڈالرز سے زیادہ کما چکا ہے جب کہ اگست کے اختتام تک یہ آمدنی 4 لاکھ ڈالرز سے زیادہ ہوجائے گی۔

Benyamin Ahmed is a 12-year-old coder with successful NFT, or non-fungible token, collections.

بنیامین احمد کے ٹوئٹر پر اس وقت 11 ہزار سے زیادہ فالوورز ہیں۔ اس نے ذرائع ابلاغ سے بات چیت میں بتایا ہے کہ اس کا کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تمام ایتھر کو اپنے پاس ہی رکھے گا اور اسے نقد رقم میں تبدیل نہیں کرائے گا۔

اس کا کہنا ہے کہ مستقبل میں لوگوں کو بینک اکاؤنٹ کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ ایک ایتھر ایڈریس اور ایک والٹ ہی ان کی ضروریات کے لیے کافی ہوگا۔

بن یامین احمد نے ایک اور این ایف ٹی پرو جیکٹ پر بھی کام شروع کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر وہ اس سلسلے کو جاری رکھتا ہے تو عین ممکن ہے کہ وہ آئندہ مستقبل میں ٹیکنالوجی کی معروف کاروباری شخصیت بن جائے جیسا کہ ایلون مسک ہیں یا جیف بیزوز ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں