The news is by your side.

Advertisement

اجتماعی زیادتی، سینیٹ کمیٹی کا نوٹس، وفاقی وزیر انسانی حقوق نے رپورٹ طلب کرلی

سوشل میڈیا صارفین کا خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ لاہور میں موٹروے پر ہولناک واقعے سے متعلق فوری رپورٹ طلب کی ہے، ایف آئی آر کی کاپی اور مقدمے میں پروگریس رپورٹ وزارت کے پاس ہے۔

تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے گجرپورہ میں خاتون سے اجتماعی زیادتی کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور واقعے کے حوالے سے فوری طور پر رپورٹ طلب کرلی۔

دوسری جانب سینیٹ داخلہ کمیٹی نے بھی موٹروے کے قریب خاتون سے زیادتی کے واقعے کا نوٹس لے لیا، سینیٹ کمیٹی نے وزارت داخلہ اور آئی جی پولیس پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔

چیئرمین سینیٹ کمیٹی کا کہنا ہے کہ سنگین جرم میں ملوث مجرموں کو جلد گرفتار کیا جائے اور مجرموں کو گرفتار کرکے سخت ترین سزا دی جائے۔

سوشل میڈیا پر صارفین نے خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کردیا۔

خاتون سے زیادتی کے خلاف توجہ دلاؤ نوٹس پنجاب اسمبلی میں جمع

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی خاتون کی بےحرمتی قابل مذمت ہے، واقعہ قانون کی عملداری کے پورے نظام کے مفلوج ہونے کا ثبوت ہے، ملوث درندے کسی رعایت کے مستحق نہیں، زینب کیس کی طرح ایسے تفتیش کی جائے کہ پراسیکیوشن میں مجرم سزا سے نہ بچ سکے۔

گجرپورہ: میڈیکل رپورٹ میں خاتون سے اجتماعی زیادتی کی تصدیق

انہوں نے مزید کہا کہ وقوع کی حدود پر جھگڑے کے بجائے ادارے مجرموں کو پکڑیں، جواب دینا پڑے گا کہ محفوظ سفر کی علامت موٹروے غیر محفوظ کیسے ہوئی؟۔

سی سی پی او لاہور اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کی اے آر وائی نیوز سے گفتگو

ادھر سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خاتون کار میں تین بچوں کیساتھ اکیلی نکلی  تھی، کار کا پیٹرول گجر پورہ کے قریب ختم ہوا تھا، اطلاع ملی کہ ایک خاتون کو دو لوگ گاڑی سے زبردستی اتاررہے ہیں جس پر کارروائی کی گئی، 14لوگوں کو گرفتار کیا ہے مزید تفتیش جاری ہے۔

لاہور: خاتون سے اجتماعی زیادتی کا معاملہ، ملزمان تاحال نہ پکڑے گئے

سی سی پی او کے مطابق ہمیں3بجے اطلاع ملی، خاتون رات 1سے 3بجے تک وہاں تھیں۔

علاوہ ازیں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن شہزادہ سلطان کا کہنا تھا کہ آئی جی صاحب اس کیس پر ہر2گھنٹے بعد اپ ڈیٹ لے رہے ہیں، بہت حساس نوعیت کا کیس ہے، تفتیش کے لیے شواہد ملے ہیں، امید ہے 48گھنٹے میں تفتیش مکمل کرلی جائےگی، متعلقہ تمام ادارے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں