ہفتہ, مارچ 7, 2026
اشتہار

کیا ایسٹرازینیکا کا دیگر ویکسینز سے امتزاج زیادہ مؤثر ہے؟ نئی تحقیق

اشتہار

حیرت انگیز

کوپن ہیگن : ڈنمارک کے طبی ماہرین نے حالیہ تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ ایسٹرازینیکا کی پہلی خوراک بعد ایم آر این اے ویکسینز کا استعمال کرونا کے خلاف زیادہ مؤثر ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کے خلاف ویکسینیشن کا عمل تو تقریباً تمام ممالک میں جاری ہے لیکن کرونا کی تمام اقسام پر ویکسین زیادہ اثر انداز نہیں ہورہی تھی، جس کے باعث ماہرین اپنی تحقیقات میں مزید تیزی لے آئے۔

ڈنمارک کے سرکاری سیرم انسٹیٹوٹ نے اپنی حالیہ تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ ایسٹرازینیکا کی پہلی خوراک لگنے کے بعد دوسری خوراک کےلیے موڈرنا، فائزر-بائیو این ٹیک کا استعمال بہترین ہے، اس طرح کرونا سے زیادہ تحفظ فراہم ہوسکے گا۔

واضح رہے کہ ایسٹرازینیکا ویکسین استعمال کرنے سے ڈنمارک سمیت کئی یورپی ممالک کے شہریوں میں بلڈ کلاٹس کی شکایات موصول ہوئی تھیں جس کے بعد ڈنمارک نے ایسٹرازینیکا کا استعمال ترک کردیا تھا اور دوسری خوراک کےلیے فائزر-بائیو این ٹیک یا موڈرنا کا استعمال کیا گیا تھا۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ طریقہ کار سے ویکسینیشن کے 14 روز بعد کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کا خطرہ 88 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار کا اطلاق کرونا کی ڈیلٹا قسم پر نہیں ہوتا جو ان دنوں ڈنمارک میں سب سے زیادہ پھیلنے والی قسم ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں