The news is by your side.

Advertisement

بجٹ 17-2018 ’امیروں کے بچوں کو امیر غریب کو غریب رہنا ہے‘

کراچی : مسلم لیگ (ن) نے اپنے دور حکومت کا آخری بجٹ 2017-2018 پیش کردیا جہاں اس موقع پر اسمبلی میں بجٹ تقریر سے قبل اسمبلی میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی دیکھنے میں ملی وہیں سوشل میڈیا پر بھی حکومت کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان دلچسپ مگر طنز سے بھرے تبصروں کا تبادلہ دیکھا جاتا رہا۔

آئیے سوشل میڈیا پر بجٹ 2017-2018 پر کیے جانے والے دلچسپ تبصروں سے لطف اندوز ہوتے ہیں کہ اعداد وشمار کے گورکھ دھندے اور تھکا دینے والے وعدے وعیدوں سے تھکے زہنوں کو کچھ ریلیف ملے بھلے بجٹ میں کچھ ریلیف ملا ہو کہ نہ ہو۔

شعری ذوق رکھنے والے لوگوں  نے بجٹ پر معروف اشعاروں کے ذریعے ایسا تبصرہ کیا کہ لبوں پر بے ساخستہ ہنسی آگئی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ میں سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ مزدور کی کم سے کم تنخواہ کو بنایا گیا اور اس حوالے سے لوگوں کا کہنا تھا کہ کوئی حکومتی وزیر 15000 میں پورا مہینہ گزارنے کا عملی مظاہرہ تو کر کے دکھائے۔

https://twitter.com/angrayj/status/868109743323262976

کچھ لوگوں نے اپنے نقطہ نظر کا اظہار کرنے کے لیے تصاویر کا سہارا لیا جس میں بجٹ کے بڑے حصے سے حکومت کے پیٹ کو بھرتا دکھایا گیا جب کہ عوام کے حصے میں بہ مشکل دوچار ہی بوند آتی ہیں۔

گورنمنٹ ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد ایڈہاک اضافے کو مسترد کرتے ہوئے ایک صارف نے طنزیہ ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین سے جلسہ گاہ کو بھرنے والے تنخواہ نہیں بڑھاتے۔

کارٹونسٹ بھی اس مہم میں پیچھے نہیں رہے اور انہوں نے مختلف طنزیہ انداز کے کارٹونز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کردیے، ایسے کارٹونز سوشل میڈیا کی زینت بنے رہے جس میں حکومتی پالیسیوں اور دعووں کو کا مذاق بنایا گیا۔

کسی کا کہنا تھا کہ بجٹ ایسے پیش کیا گیا ہے کہ لوگ اسحاق ڈار کے لیڈر پر چلنے والا مقدمہ پاناما کیس بھول جائیں گے اور دال روٹی کی فکر میں لگ جائیں گے۔

سبسڈی کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے دعوے پرایک پیروڈی شعر ملاحظہ کریں

بجٹ 2017-2018 کا سیشن کیسا رہا اور اندورن خانہ کیا مناظر تھے فیس بک پر ایک صارف نے ایسا نقشہ کھینچا جسے دیکھ کر آپ بھی محظوظ ہوں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں