The news is by your side.

Advertisement

پاکستان مخالف ریکوڈک فیصلہ، حکومت نے جائزہ کمیٹی تشکیل دے دی

اسلام آباد: ریکوڈک پر عالمی عدالت کے فیصلے کا جائزہ لینے کے لیے حکومت نے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی ثالثی ادارے کے ریکوڈک کیس میں پاکستان کے خلاف فیصلے پر حکومت پاکستان نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو اس فیصلے کا جائزہ لے گی۔

اس کمیٹی میں وزیر قانون فروغ نسیم، اٹارنی جنرل انور منصور خان، معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر، وزیر مملکت حماد اظہر شامل ہیں۔

آج ایک پریس کانفرنس میں مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ کمیٹی عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا جائزہ لے گی۔

ریکوڈک کیس میں پاکستان پر جرمانہ عاید ہونے پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے معاملے کی تحقیقات کا حکم بھی جاری کیا جا چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ریکوڈک کیس: پاکستان کو 5.8 ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم

یاد رہے کہ تین دن قبل انٹرنیشنل کورٹ آف سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیتھیان کاپر کمپنی کو 5.8 ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرے۔ جس میں 4.08 ارب ڈالر ہرجانہ اور 1.87 ارب ڈالر سود ہے۔

پاکستان پر ہرجانہ ریکوڈک کا معاہدہ منسوخ کرنے کے باعث عاید کیا گیا ہے، کمپنی کو سونے، تانبے کے ذخائر کی تلاش کا لائسنس جاری کیا گیا تھا، تاہم سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے 2011 میں ریکوڈک معاہدہ منسوخ کر دیا تھا۔

ٹیتھیان کمپنی کا کہنا تھا کہ ہم نے مائننگ کے لیے 22 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی، 2011 میں اچانک مائننگ لیز روک دی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں