The news is by your side.

انتخابات میں مبینہ دھاندلی: اپوزیشن نے ٹی او آرز جمع کرا دیے، حکومت نے وقت مانگ لیا

اسلام آباد: عام انتخابات 2018 میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے سلسلے میں پارلیمانی کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں اپوزیشن نے ٹی او آرز تحریری شکل میں جمع کرا دیے۔

تفصیلات کے مطابق آج اسلام آباد میں پارلیمانی کمیٹی برائے جنرل الیکشن 2018 کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں اپوزیشن نے ٹی او آرز جمع کرا دیے تاہم حکومت نے ٹی او آرز تجویز کرنے کے لیے وقت مانگ لیا۔

اپوزیشن کے مسودے کو حکومتی کمیٹی دیکھے گی، بدھ کو حکومتی نمائندگان کی جانب سے مسودہ پیش کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر شفقت محمود کنونیئر ذیلی کمیٹی

ذیلی کمیٹی کے پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 225 سے متعلق تحریری مؤقف دینے کی ضرورت نہیں، ہمارا مؤقف واضح ہے کہ آرٹیکل 225 تحقیقات کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔

رانا ثنا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آج اپنی جانب سے ٹی او آرز تجویز کر دیے ہیں، جب کہ حکومت نے ٹی او آرز کے لیے وقت مانگا ہے۔

ذیلی کمیٹی کے رکن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سنیئر رہنما نوید قمر نے کہا کہ ذیلی کمیٹی کا دوبارہ اجلاس 28 نومبر کو ہوگا، ذیلی کمیٹی کے پاس دو ہفتے کا وقت تھا وہ ختم ہو رہا ہے، مزید وقت لینے کے لیے دوبارہ مرکزی کمیٹی میں جانا پڑے گا۔

نوید قمر کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے کوئی مسودہ نہیں دیا گیا، مثبت رویہ تب نظر آئے گا جب تحقیقات آگے بڑھیں گی، حکومت شاید اسی ایشو پر اٹکی ہے کہ پارلیمنٹ کے پاس اختیار نہیں ہے۔


یہ بھی پڑھیں:  پرویز خٹک الیکشن میں مبینہ دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین منتخب


دریں اثنا ذیلی کمیٹی کے کنوینئر شفقت محمود نے کہا کہ آج میٹنگ میں پیپلز پارٹی کی جانب سے مسودہ پیش کیا گیا، نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو، اور رانا ثنا اللہ بھی موجود تھے، مسلم لیگ ن کے رہنما نے 10 نکات کا مسودہ پیش کیا۔

وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا کہ مسودے کو حکومتی کمیٹی دیکھے گی، بدھ کو حکومتی نمائندگان کی جانب سے مسودہ پیش کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پارلیمانی کمیٹی برائے عام انتخابات 2018 کے ٹی او آرز طے کرنے کے لیے بنائی گئی ذیلی کمیٹی 8 ارکان پر مشتمل ہے جس میں حکومت اور اپوزیشن کے مساوی چار، چار ارکان شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں