جمعہ, جولائی 10, 2026
اشتہار

پی آئی اے کیلئے ٹیکس چھوٹ کی تجویز پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ، کمیٹی اراکین سیخ پا

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد : پی آئی اے کیلئے ٹیکس چھوٹ کی تجویز پر کمیٹی اراکین سیخ پا ہوگئے ، جس پر شیرِ نجکاری محمد علی کو فوری طور پر آج ہی کے اجلاس میں طلب کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے لیے ٹیکس چھوٹ کی تجویز پر اراکینِ کمیٹی وفاقی بیوروکریسی اور ایف بی آر حکام پر سیخ پا ہو گئے۔

کمیٹی نے شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے نجکاری کے عمل کے اس اہم معاملے پر مشیرِ نجکاری محمد علی کو فوری طور پر آج ہی کے اجلاس میں طلب کر لیا ہے۔

چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں پی آئی اے کے لیے نئے جہازوں اور پرزہ جات کی درآمد پر ٹیکس استثنیٰ کی تجویز زیرِ بحث آئی۔

اجلاس کے دوران ایف بی آر حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے سنسنی خیز انکشاف کیا کہ جولائی میں پی آئی اے کی ہینڈ اوور اور ٹیک اوور ہونے جا رہی ہے۔

ایف بی آر حکام نے بتایا کہ ابھی پی آئی اے کے پاس ایک سال کا ٹیکس استثنیٰ موجود ہے لیکن اب وہ 15 سال کے لیے ٹیکس چھوٹ مانگ رہے ہیں، اور ہم نے اس ٹیکس چھوٹ کو عالمی مالیاتی ادارے سے بھی کلیئر کروا لیا ہے۔

ٹیکس استثنیٰ کی تجویز پر چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایف بی آر حکام سے سوال کیا کہ "اگلے سال تو پی آئی اے کے لیے نئے جہازوں کی امپورٹ ہونی ہی نہیں، تو کیا ہم لائف ٹائم کے لیے پی آئی اے کو ٹیکس استثنیٰ دے دیں گے؟”

انہوں نے کہا کہ ملک میں ایوی ایشن سیکٹر کے اندر 5 سے 6 کھلاڑی (دیگر نجی ایئرلائنز) موجود ہیں، اگر ہم صرف ایک کمپنی کو یہ استثنیٰ دیں گے تو دوسرے مارکیٹ میں مقابلہ کیسے کریں گے؟

جس پر ایف بی آر حکام نے جواب دیا کہ ہم اس ٹیکس استثنیٰ پر 10 سال یا کوئی کیپ (حد) لگا دیں گے۔

کمیٹی کی رکن شرمیلا فاروقی نے نجکاری کے تحت دی جانے والی اس مراعات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نجکاری کے معاہدے میں یہ شرط شامل تھی کہ نئے جہازوں اور پرزوں پر ٹیکس استثنیٰ ہوگا، لیکن اگر آپ واقعی مارکیٹ کو چلانا چاہتے ہیں تو یہی استثنیٰ دوسری ایئرلائنز کو بھی دیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دیگر ایئرلائنز اس امتیازی سلوک پر شدید اعتراض کر رہی ہیں، پی آئی اے کو 15 سال تو دور کی بات، 5 سال کی چھوٹ بھی نہیں بنتی۔

کمیٹی کے رکن اختیار بیگ نے بھی بیوروکریسی کے رویے پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اگر انہوں نے خود ہی نجکاری کے معاہدے میں یہ استثنیٰ شامل کر لیا ہے تو ہم یہاں کمیٹی میں کیا کر رہے ہیں؟”

ایک اور رکن جاوید حنیف نے عوامی ریلیف کا سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ کیا حکومت نے خریدار کمپنی پر کوئی ایسی پابندی یا حد لگائی ہے کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے کا کرایہ کتنا ہونا چاہیے؟ کمیٹی نے معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے مشیرِ نجکاری کو فوری طلب کر کے وضاحت مانگ لی ہے۔

اہم ترین

شعیب نظامی
شعیب نظامی
Shoaib Nizami reports Finance, Fedeal Board of Revenue, Planning , Public Accounts, Banking, Capital Market, SECP, IMF, World Bank, Asian Development Bank, FATF updates for ARY News

مزید خبریں