ملازم کو تنخواہ نہ دینے اور حق سے محروم رکھنے پر عدالت کی جانب سے سخت فیصلہ کرتے ہوئے کمپنی پر کروڑوں روپے کا جرمانہ عائد کردیا گیا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تنخواہ کے معاملے پر کمپنی اور ملازم کے درمیان ہونے والی عدالتی لڑائی میں فیصلہ سابق ملازم کے حق میں دیا گیا، عدالت نے نہ صرف کمپنی پر بھاری جرمانہ عائد کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ کمپنی 23 ماہ تک ملازم کی ماہانہ تنخواہیں ادا کرنے کا ثبوت نہیں دے سکی۔
کمپمنی کی جانب سے تنخواہ ادا نہ کرنے پر متاثرہ ملازم نے سب سے پہلے وزارتِ انسانی وسائل و اماراتائزیشن کی تنازعاتی حل کمیٹی سے رجوع کیا تھا جس کے بعد معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔
بعد ازاں ملازم نے لیبر کورٹ آف فرسٹ انسٹینس میں مقدمہ دائر کیا اور تقریباً دو سال کی بقایا تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا، ملازم کی درخواست کو درست قرار دیتے ہوئے عدالت نے کمپنی کو حکم دیا کہ وہ سابق ملازم کو 2 لاکھ 28 ہزار 666 درہم ادا کرے۔
حکم نامے میں عدالت یہ بھی کہا کہ اگر معاہدے میں تنخواہ واضح نہ ہو تو لیبر تنازع کی صورت میں عدالت کو اس کا تعین کرنے کا اختیار حاصل ہے، ملازمت کے معاہدے میں تنخواہ کی رقم یا نوعیت کا واضح ہونا لازمی عمل ہے۔
عدالت نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت آجر (کمپنی) پر لازم ہے کہ وہ وزارت کی منظور شدہ نظام کے مطابق وقت پر تنخواہیں ادا کرے، عدالتی حکم کے مطابق مذکورہ ملازم کو تنخواہ اماراتی درہم میں ادا کی جائے گی۔
فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر آجر کو تنخواہ کی ادائیگی کا ثبوت فراہم کرنا بھی لازمی ہے، کمپنی کو ہدایت کی گئی کہ وزارت میں رجسٹرڈ تمام اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تنخواہیں ویج پروٹیکشن سسٹم یا دیگر منظور شدہ طریقہ کار کے ذریعے ادا کریں۔
اے آئی کی وجہ سے دنیا بھر کی کمپنیوں نے ملازمتوں میں کٹوتی کی رفتار تیز کر دی
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


