site
stats
کھیل

یونس خان کے اعزاز میں تقریب، بورڈ اور سابق کھلاڑیوں کا خراج تحسین

اسلام آباد : سابق کرکٹر یونس خان نے کہا ہے کہ 10 ہزار رنز مکمل کرنے کو اپنے لیے اعزازسمجھتا ہوں اور پاکستان کے لیے جو خواب دیکھے وہ پورے کیے۔

یونس خان اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیے سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کے فیصلے پرخوش اورمطمئن ہوں اورپاکستان کے لیے جوخواب دیکھے اس کو پوری محنت اور لگن کے ساتھ پورے کیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا خوش نصیب کھلاڑی ہونے پرفخرمحسوس کرتا ہوں اور ہمیشہ اپنے ملک کے نام اور جھنڈے کی سربلندی کے لیے انتھک محنت کی اور وطن کے ناموس پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں کی جس پر اللہ نے بھی مجھے کامیابیوں سے نوازا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق کرکٹر ظہیر عباس نے کہا کہ یونس خان نے پرانے اورنئے دورکی کرکٹ کھیلی اور دونوں طرح کی کرکٹ سے لطف اندوز ہوئے۔

ظہیر عباس کا کہنا تھا کہ یونس خان نے کرکٹ کوعزت دی، اسپورٹ مین شپ کو مقدم رکھا اور انفرادیت کے بجائے وطن کے لیے کرکٹ کھیلی اس لیے ان کوعزت بھی ملی۔

سابق اوپنر مدثر نذر نے یونس خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یونس خان تھوڑے ضدی ہیں لیکن بہت نفیس انسان ہیں اور ایک بہترین کر کٹرہیں جن کی کمی محسوس کی جائے گی۔

سابق فاسٹ بولرعاقب جاوید نے کہا کہ پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں یونس خان وہ واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے ٹی ٹوئنٹی اور ٹیسٹ کرکٹ کو اپنے عروج پر خیرآ باد کہا اور نوجوانوں کے لیے جگہ چھوڑی۔

سابق وکٹ کیپرمعین خان نے یونس خان کو نوجوان کھلاڑیوں کے لیے رول ماڈل قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان کرکٹرز کو یونس خان سے سیکھنا چاہیے بالخصوص فٹنس کے معاملے میں یونس خان اپنی مثال آپ ہیں۔

سابق اسپینر ثقلین مشتاق نے کہا کہ یونس خان نے اپنی تمام تر صلاحیتیں پاکستان کے لیے صرف کیں اور ہمیشہ ملک کے لیے کھیلے اور کامیابیاں دلائیں۔

ساتھی کرکٹر اور آل راؤنڈر عبدالرزاق نے کہا کہ یونس خان کی ریٹائرمنٹ پاکستان کرکٹ کا بڑا نقصان ہے اور یہ خلاء بڑی مشکل سے بھرے گا۔

دریں اثناء چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ شہریارخان اورسربراہ ایگزیکٹو کمیٹی نجم سیٹھی نے ویڈیو پیغامات کے ذریعے
یونس خان کو پاکستان کا اثاثہ قرار دیتے ہوئے زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور انہیں کرکٹ کی تاریخ میں انمول کھلاڑی کہا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top