The news is by your side.

Advertisement

ٹیکس دہندگان کا آڈٹ، کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی ہو گئی

اسلام آباد: ٹیکس دہندگان کے آڈٹ کے انتخاب کے لیے کمپیوٹرائزڈ قرعہ اندازی ہو گئی، ایف بی آر نے کمپیوٹر بیلٹنگ کے ذریعے ٹیکس سال 2018 کے آڈٹ کیسز کا انتخاب کر لیا۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بیلٹنگ کے ذریعے ایسے افراد کا انتخاب کیا گیا ہے جو قوانین کے دائرہ کار میں آتے ہیں، ان قوانین میں انکم ٹیکس آرڈیننس 2001، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990، فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 شامل ہیں۔

اعلامیے کے مطابق آج ایف بی آر ہیڈ کوارٹر میں تقریب میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے بھی شرکت کی، بتایا گیا کہ ٹیکسز آڈٹ کیسز کے انتخاب کے لیے رسک پر مبنی پیرا میٹرک طریقہ کار کا معیار وضع کیا گیا ہے، کیسز کے انتخاب کے لیے سائنسی طریقہ کار اپنایا گیا، اس کے لیے ایک سافٹ ویئر بھی بنایا گیا ہے جو رسک پر مبنی آڈٹ مینجمنٹ نظام کہلاتا ہے۔

تقریب میں چیئرمین ایف بی آر نے کہا ہم شفافیت کے ساتھ آسانی فراہم کرنے اور ثابت قدمی کے اصولوں پر کام کر رہے ہیں، کچھ کیٹیگریز کو آڈٹ کے انتخاب سے خارج کیا گیا ہے، ان کیٹیگریز میں ایسے افراد ہیں جن پر ایف بی آر ونگ تحقیقات کر رہا ہے، کمپنیوں کے ڈائریکٹرز کیسز اخراج کے لیے کوالیفائی نہیں کرتے، وہ تمام کیسز جن میں تمام آمدنی حتمی ٹیکس رجیم کے دائرہ کار میں آئے خارج کیے گئے۔

اعلامیے کے مطابق جنھوں نے ایمنسٹی اسکیم کے تحت اثاثے ظاہر کیے وہ بھی آڈٹ کے انتخاب سے خارج ہوئے، وفاقی، صوبائی، مقامی حکومتوں کے ادارے بھی آڈٹ کے لیے خارج کر دیے گئے، آڈٹ کے لیے کم سے کم کیسز کا انتخاب کیا جا رہا ہے، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے زیادہ رسک والے کیسز پر توجہ ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ایف بی آر نے “سالانہ ٹیکس ڈائریکٹری 2018” شائع کر دی، جس میں سینیٹ، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی کے ارکان کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔

تقریب میں مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے موجودہ بجٹ کے تحت کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، ایف بی آر نے گزشتہ سال کی نسبت رواں سال زیادہ سیلز ٹیکس ری فنڈز ادا کیے، ایف بی آر نے “فاسٹر” کے نام سے ایک آن لائن سسٹم متعارف کرایا، ایف بی آر کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے 2 کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔

اعلامیے کے مطابق انکم ٹیکس کارپوریٹ، نان کارپوریٹ کے لیے 10441 کیسز کا انتخاب کیا گیا، سیلز ٹیکس کارپوریٹ، نان کارپوریٹ کے لیے 2065 کیسز کا انتخاب کیا گیا، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کارپوریٹ، نان کارپوریٹ کے لیے 27 کیسز کا انتخاب کیا گیا، آڈٹ کے لیے کل 12553 کیسز کا انتخاب کیا گیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں