اسلام آباد (16 اپریل 2026): سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے ڈیولوشن کا اجلاس قائم مقام چیئرمین ضمیر حسین گھمرو کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں تعلیمی اداروں میں ہراسگی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کی عدم حاضری پر کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور انھیں آئندہ اجلاس میں پیش ہونے کے لیے سمن جاری کرنے کی ہدایت کی گئی، جب کہ وارنٹ جاری کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا۔
کامسیٹ یونیورسٹی میں ہراسگی کے کیسز پر بریفنگ دیتے ہوئے حکام نے بتایا کہ 2023 سے 2025 کے دوران 20 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں ورک پلیس اور جنسی ہراسگی دونوں شامل ہیں۔ 14 خواتین، 3 مردوں نے خواتین کے خلاف، ایک خاتون نے خاتون کے خلاف اور 3 مردوں نے مردوں کے خلاف شکایات درج کروائیں۔
بریفنگ کے مطابق ان کیسز میں 19 نمٹا دیے گئے، جن میں 2 میں جرمانہ، ایک میں برطرفی، 5 میں وارننگ، 4 میں معافی، ایک شکایت واپس جب کہ 4 کیسز میں ثبوت نہ مل سکے۔ حکام نے واضح کیا کہ ہراسگی کے کیسز میں متاثرین کے نام خفیہ رکھے جاتے ہیں۔
چیئرمین کمیٹی نے فہمیدہ لغاری کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہراسگی کے غیر رپورٹ شدہ واقعات ایک سنگین مسئلہ ہیں اور اس کے سدباب کے لیے مؤثر حکمت عملی ضروری ہے۔
بعد ازاں ایچ ای سی حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک بھر کی جامعات میں 472 ہراسگی کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 455 نمٹا دیے گئے، جب کہ 53 فیکلٹی ممبران اور 19 طلبہ کو ہراسگی میں ملوث ہونے پر نکالا گیا۔ حکام کے مطابق شکایت درج ہوتے ہی فوری کارروائی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔
ٹیکسلا میں لرزہ خیز واردات: پسند کی شادی پر ایک ہی خاندان کے 3 افراد کو ذبح کر دیا گیا
اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 38(g) پر عمل درآمد کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بریفنگ دی، جب کہ وفاقی اداروں میں صوبوں کے کوٹے، پیٹرولیم ڈویژن کی صوبہ وار کارپوریشنز، اور پاور ڈویژن کی ڈسکوز کی صوبوں کو منتقلی سے متعلق امور پر بھی جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی نے ملک بھر میں تعلیمی و ورکنگ ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔


