The news is by your side.

Advertisement

فرانس میں تاریخی فراڈ کرنے والا رابرٹ ملر کون تھا؟

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دلوں میں نہیں، صرف کتابوں اور تذکروں تک محدود رہتے ہیں۔ رابرٹ ملر ایک ایسا ہی نام ہے کہ جب بھی لگ بھگ ایک صدی پرانے ایفل ٹاور کی بات کی جائے گی، اس کا نام بھی کسی کے لبوں پر آسکتا ہے۔

رابرٹ ملر ایک بدنامِ زمانہ شخص اور جعل ساز تھا۔ وہ دھوکا دہی اور فراڈ کے ذریعے دولت سمیٹنے میں گویا ماہر تھا۔
ایفل ٹاور سے متعلق اس کے فراڈ کو جان کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔ دھوکا دہی کی وارداتوں کے لیے رابرٹ نے مختلف نام اپنائے اور کئی سوانگ بھرے۔ وہ اپنے جعلی نام وکٹر لسٹنگ سے زیادہ مشہور ہوا۔

ایفل ٹاور سے متعلق دنیا کے بڑے فراڈ کے بارے میں جاننے سے پہلے اس جعل ساز رابرٹ ملر کی نجی زندگی کا مختصر احوال پڑھ لیجیے۔

رابرٹ ملر کا وطن چیکو سلواکیا تھا۔ اس کی تاریخِ پیدائش 1890ء بتائی جاتی ہے۔ کہتے ہیں رابرٹ ایک ذہین اور پُراعتماد بچہ تھا۔ اس کی ایک خاصیت بَروقت فیصلہ کرنا تھا۔ وہ متعدد زبانیں جانتا تھا اور یہ بھی اس کی ایک قابلیت تھی جس نے اسے جعل سازی اور دھوکا دہی میں بہت مدد دی۔ وہ نہایت آسانی سے لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا لیتا تھا۔

اس نے ایک ٹھگ کے طور پر لوگوں کو ان کی نقدی اور قیمتی اشیا ہی سے محروم نہیں کیا بلکہ پیرس کے مشہورِ زمانہ ایفل ٹاور کو بھی بیچ ڈالا۔

فرانس کی یہ تاریخی یادگار لوہے کا ایک بلند مینار ہے جو خوشبوؤں کے شہر پیرس میں دریائے سین کے کنارے واقع ہے۔ ایفل ٹاور کی تعمیر میں لوہا اور اسٹیل استعمال کیا گیا ہے جن کا مجموعی وزن 7,300 ٹن ہے۔ ایک موقع پر انتظامیہ نے اس یادگار کو منہدم کرکے اس کا ملبا فروخت کرنے کا اعلان کیا، لیکن جلد ہی یہ ارادہ بدل گیا۔ انتظامیہ کی جانب سے انہدام اور تنسیخ کی تشہیر تو کی گئی، مگر چند کاروباری منسوخی کے اعلان سے بے خبر رہے۔

رابرٹ ملر 1925ء میں امریکا میں فراڈ کے بعد گرفتاری سے بچنے کے لیے فرانس آیا جہاں ایک صبح اخبار میں ایفل ٹاور کے حوالے سے ایک خبر اس کی نظر سے گزری اور رابرٹ کا شیطانی دماغ متحرک ہو گیا۔ اس نے ایک منصوبہ ترتیب دیا اور سرکاری عہدے دار کی حیثیت سے لوہے کی خریدوفروخت کے چھے بڑے تاجروں کو ایک جعلی سرکاری لیٹر پر لکھ بھیجا کہ وہ ایفل ٹاور کا ملبا اٹھانے کے لیے رابطہ کریں۔ ساتھ ہی یہ ہدایت بھی کی کہ انتظامیہ اس معاملے کو خفیہ رکھنا چاہتی ہے جس کا خیال رکھا جانا ضروری ہے۔

چند تاجروں نے جوابی خط میں ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو رابرٹ خود کو سرکاری عہدے دار ظاہر کرتے ہوئے اعلیٰ درجے کے ہوٹل میں ان سے ملا اور فرضی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فی الوقت اس معاملے کو خفیہ رکھنا ہے۔ آخر لوہے کا ایک تاجر ایفل ٹاور کا ملبا خریدنے پر رضامند ہو گیا۔

ایک سرکاری کاغذ پر معاہدے کی تفصیلات لکھی گئیں اور انتظامیہ کی جانب سے رابرٹ ملر اور خریدار نے دستخط کر دیے۔ وہ خریدار اس بات سے بے خبر تھا کہ جس سرکاری کاغذ پر اس نے دستخط کیے ہیں، وہ بھی جعلی ہے اور اس کے سامنے موجود عہدے دار درحقیقت ایک جعل ساز ہے۔ خریدار نے معاہدے کے تحت ایک بھاری رقم رابرٹ کے حوالے کر دی۔

اس تاجر کو دھوکا دینے میں‌ کام یابی اور اس سے رقم حاصل کرتے ہی رابرٹ ملر ٹرین کے ذریعے آسٹریا روانہ ہو گیا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں