The news is by your side.

Advertisement

مسلمان طلبہ پر تشدد کیخلاف بھارتی کرکٹرز بھی بول پڑے

نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت میں فاشسٹ مودی سرکار کے مسلمان طلبہ پر مظالم کے خلاف خود بھارتی بھی بول پڑے، سابق کرکٹر عرفان پٹھان اور آکاش چوپڑا نے پولیس کے لاٹھی چارج اور بہیمانہ تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر عرفان پٹھان نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی الزام تراشیاں ہمیشہ چلتی رہیں گے لیکن میں اور ہمارا ملک جامعہ ملیہ کے طلبہ کے حوالے سے فکر مند ہیں۔

https://twitter.com/IrfanPathan/status/1206248915609145345

سابق کرکٹر آکاش چوپڑا نے بھی اپنے ردعمل میں کہا کہ یہ طلبہ ملک کا مستقبل ہیں ہم طاقت کا استعمال کرکے ان کی آواز نہیں دبا سکتے بلکہ ایسا کرنے سے آپ صرف انہیں ہندوستان کے خلاف کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں سے افسوسناک مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں جس پر آنکھیں نم ہیں۔

خیال رہے کہ بھارت میں مسلمان مخالف، ہندو نواز متنازع بل کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہے، پرتشدد مظاہروں میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا خدشہ ہے، مودی سرکار نے پولیس کو کھلی چھوٹ دے دی ہے۔

پولیس مسلمانوں کے حق میں احتجاج روکنے کے لیے دہلی کی جامعہ ملیہ کے طلبہ پر گزشتہ روز ٹوٹ پڑی، طلبہ اور طالبات پر وحشیانہ تشدد کیا گیا، بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ پولیس گرلز ہاسٹل اور جامعہ ملیہ کی مسجد میں بھی گھس گئی، اور پناہ گزین طالبات کو بری طرح مارا پیٹا گیا، اسکارف پہنی طالبات کو بالوں سے گھسیٹ کر گاڑیوں میں ڈالا گیا، لاٹھیاں چلائی گئیں، آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے۔

https://twitter.com/IrfanPathan/status/1206248915609145345

Comments

یہ بھی پڑھیں