The news is by your side.

Advertisement

اے پی سی میں سیاسی قائدین کا اعتماد بحال نہ ہو سکا

اسلام آباد: ذرایع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی اے پی سی میں سیاسی قائدین کا اعتماد بحال نہیں ہو سکا ہے، اپوزیشن رہنما تحریک عدم اعتماد اور ان ہاؤس تبدیلی پر تقسیم نظر آ رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آج اسلام آباد میں اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی قائدین مختلف آپشنز پر تقسیم دکھائی دیے، ذرایع کا کہنا ہے کہ پی پی، جے یو آئی ف نے اسپیکر قومی اسمبلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی مخالفت کر دی ہے۔

دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ ن اور دیگر پارلیمانی جماعتوں نے اسپیکر کے خلاف قرارداد لانے پر زور دیا ہے۔

ادھر لیگی رہنما رانا ثنا اللہ نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے خلاف احتجاج پر سب کا اتفاق ہے، تاہم طریقہ کار پر غور کیا جا رہا ہے، اے پی سی کے سامنے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کے آپشنز ہیں۔

اے پی سی میں تقریر نہ دکھانے پر فضل الرحمان کا بلاول سے احتجاج

انھوں نے بتایا کہ اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تجویز مولانا نے نہیں دی، مولانا کی فوری استعفوں کی تجویز ہے جب کہ چار پانچ رہنما مرحلہ وار احتجاج چاہتے ہیں، مولانا نے تجویز دی ہے کہ پہلے استعفیٰ دینا چاہیے پھر احتجاج کی طرف جانا چاہیے، جب کہ کچھ جماعتوں کا خیال ہے کہ پہلے احتجاج کیا جائے پھر استعفے دیے جائیں۔

ایک صحافی نے سوال کیا کہ اگر 9 چھوٹی جماعتوں نے استعفوں کا کہہ دیا تو فیصلہ کس کا مانا جائے گا، رانا ثنا نے کہا کہ چھوٹی جماعتوں ہی کے کچھ رہنماؤں نے مرحلہ وار آگے بڑھنے کا کہا ہے، اس سوال کہ تحریک لانے والوں کے خلاف ہوگی یا حکومت کے خلاف ہوگی، کے جواب میں انھوں نے کہا آئندہ ایسا نہ ہونے کا راستہ روکنے کی کوشش کی جائے گی۔

وزیر اعظم نے نواز شریف کی تقریر نشر کرنے کی اجازت دی

انھوں نے کہا ان ہاؤس تبدیلی اے پی سی میں زیر غور ہے، اگر اس پر فیصلہ ہو جائے تو کچھ نہیں کہہ سکتے، ن لیگ ان ہاؤس تبدیلی کے حق میں نہیں، اگر اکثریت فیصلہ کرتی ہے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں، باقی جماعتیں اگر فیصلہ کرتی ہیں تو وہ ہماری مجبوری ہوگی، ہم یہ سمجھتے ہیں ان ہاؤس تبدیلی کا آپشن مناسب نہیں۔

رانا ثنا کا یہ بھی کہنا تھا کہ مولانا فضل ا لرحمان کی تقریر اے پی سی نہیں میڈیا نے نہیں دکھائی ہے۔ صحافی نے سوال کیا کہ ن لیگ مولانا فضل الرحمان کے زیادہ قریب ہے یا دوسری طرف، رانا ثنا نے جواب دیا کہ مسلم لیگ ن کی سوچ نواز شریف کی سوچ کے ساتھ ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں