The news is by your side.

Advertisement

جے یو آئی اور پیپلز پارٹی میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے

لاڑکانہ: پی ڈی ایم میں ڈراریں پڑنے لگی، جے یو آئی اور پیپلز پارٹی میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔

ذرائع کے مطابق فضل الرحمان کا بینظیر بھٹو کی برسی میں شرکت سے انکار ذاتی ناراضی ہے، من پسند افسران کی سندھ میں تعیناتی نہ ہونے پر جے یو آئی نے ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی سندھ میں مرضی کےافسران کی تعیناتی کی خواہشمند ہے، کراچی وسطی میں مولانا کے بھائی کی تعیناتی بھی فرمائشی پروگرام کی کڑی تھی، اس کے علاوہ جے یو آئی کی جانب سے اپوزیشن اجلاسوں میں بھی افسران کےتبادلوں کےمطالبات رکھے گئے۔

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے بھی جے یوآئی کے افسران کے تبادلوں اور تقرریوں کے مطالبات پر اظہار ناراضی کیا ہے۔

اس سے قبل سابق صدر آصف زرداری کی کال کے باوجود فضل الرحمان نے لاڑکانہ آمد سے معذروی ظاہر کی تھی، جس کے بعد فضل الرحمان کل ہونے والے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدابخش کے جلسے میں شرکت نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  ثابت ہوچکا کہ جے یو آئی(ف) میں آمریت مسلط ہے، وزیر اطلاعات

مولانافضل الرحمان کی جگہ جے یو آئی کا پانچ رکنی وفدجلسے میں شرکت کرےگا، وفد میں عبدالغفورحیدری، سراج احمدخان، عبدالرزاق عابد اور سعود افضل شامل ہونگے۔

واضح رہے کہ چوبیس دسمبر کو سابق صدر آصف زرداری اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا تھا۔

ٹیلی فونک رابطے میں آصف زرداری اورمولانافضل الرحمان کے درمیان حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی، آصف زرداری نے مولانا فضل الرحمان کو گڑھی خدابخش جلسے میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

دوسری جانب رہنماجے یو آئی ناصر محمود سومرو نے پیپلز پارٹی کے ساتھ کسی بھی قسم کے اختلافات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں پارٹیوں میں کسی معاملے پر کوئی اختلاف نہیں، صرف دو دن قبل آصف زرداری نے امیر جے یو آئی (ف) کو بے نظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کی دعوت دی تھی، جس پر پہلے سےطے مصروفیات کے باعث فضل الرحمان نےمعذرت کرلی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں