سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ تصادم کی سیاست سے کسی کا فائدہ نہیں، سب سے زیادہ نقصان پی ٹی آئی کو ہورہا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں گفتگو کرتے ہوئے ہمارے ذہن میں ایک چیز چل رہی ہے کہ تصادم کی سیاست نقصان دہ ہے، تصادم کی سیاست سے ملک کو نقصان ہورہا ہے، تصادم کی سیاست ختم ہونی چاہیے، شاہ محمود قریشی 100 فیصد متفق تھے کہ تصادم کی سیاست ہمیں نقصان دے رہی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما عمران اسماعیل نے کہا کہ پی ٹی آئی آج بھی میری جماعت ہے، میں خود کو اس کا حصہ سمجھتا ہوں، کسی کو شاہ محمود سے ملاقات پراعتراض ہے تو وہ بھی ملاقات کرلیا کریں۔
انھوں نے کہا کہ آپ نے کبھی شاہ محمود، یاسمین راشد یا اعجاز چوہدری سے ملاقات کی کوشش نہیں کی، یہ میری پہلی ملاقات نہیں، جب موقع ملتا ہے دوستوں سے ملاقات کرتا ہوں، یہ باتیں ہم سوچ رہےتھے تو اتفاق ایسا ہوا کہ شاہ محمود اسپتال چیک اپ کےلیے آئے۔
شاہ محمود کی عیادت کرنے گئے لیکن ذہن میں یہ بھی تھا کہ معاملات پر بات کریں گے، شاہ محمود نے کہا کہ تصادم کی سیاست سے معاملات آگے نہیں چل سکتے، ہمیں متوازن، سوچ سمجھ کر پالیسی اور مفاہمت کی سیاست کی طرف جانا پڑےگا۔
عمران اسماعیل نے کہا کہ ہمیں مفاہمت کی سیاست کرتے ہوئے حکومت، اپوزیشن سے بات کرنی پڑےگی، پی ٹی آئی کو پلئینگ فیلڈ ملنی چاہیے جو دیگر جماعتوں کو ملی ہوئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے ملاقات میں خود کو چھڑوانے کی کوئی بات نہیں کی، ہم نے پہلے اعجاز چوہدری سے ملاقات کی اور پھر شاہ محمودقریشی سےملاقات کی۔
سابق گورنر سندھ نے کہا کہ پی ٹی آئی رہنما جیل میں موجود رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرتے نہ ان کو سنتے ہیں، اپنے رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں، بس جو جیل چلا گیا وہ سڑتا رہے ایسا نہیں ہونا چاہیے، کیا پی ٹی آئی کی قیادت کبھی شاہ محمودقریشی سے ملاقات کرتے ہوئے نظر آئی؟
عمران اسماعیل نے مزید کہا کہ کیا پی ٹی آئی رہنما کبھی شاہ محمود قریشی کا پیغام بانی پی ٹی آئی کے پاس لے گئے، پی ٹی آئی چیئرمین، سیکریٹری جنرل نے شاہ محمود، اعجازچوہدری سے کبھی ملاقات نہیں کی۔
ایسا ماحول ہے کہ جیل گیا وہ وہیں مرے اور ضمانت ہو تو کہیں ڈیل ہوگئی ہے، کسی کی ضمانت ہو تو کہا جاتا ہے اسکی ڈیل ہوگئی، سیٹنگ ہوگئی، یہ بک گیا، غدار ہے۔
انھوں نے کہا کہ کیا ان کی نظر میں جیل میں سڑنا کوئی کرائٹیریا ہے؟ شاہ محمود سے ملاقات میں رکاوٹ تھی لیکن اجازت مل گئی، شاہ محمود سے ملاقات کا معاملہ محمود مولوی نے مینیج کیا، شاہ محمود نے ہماری باتوں سے اتفاق کیا کہ تصادم کی سیاست ہمیں زیب نہیں دیتی،
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی بھی بانی پی ٹی آئی سےملاقات ہونی چاہیے، سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی سے ہدایات لینی ہیں کہ صوبہ کیسے چلانا ہے۔
عمران اسماعیل نے کہا کہ مجھے یقین ہے بانی پی ٹی آئی وزیراعلیٰ کو ایسا مشورہ نہیں دینگے جوملک کےخلاف ہو، میں بانی پی ٹی آئی سےملاقات کی بہت کوشش کررہا ہوں لیکن اجازت نہیں مل رہی۔
انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو خود کو تبدیل کرنا چاہیے، بات چیت اور امن کو موقع دینا چاہیے، پی ٹی آئی کے بہت سارے دوست چاہتے ہیں کہ مفاہمت کی طرف جایا جائے۔
عمران اسماعیل نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بہت دوستوں نے فون کیا اور مفاہمت کی بات کو سراہا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں کرنے والے وہی بات کرتے ہیں جو بانی سننا چاہتے ہیں، بہت لوگوں میں ہمت نہیں کہ وہ بانی پی ٹی آئی کو ملاقات میں حقیقت بتائیں۔
سابق گورنر نے کہا کہ ملاقات کرنےوالوں میں ہمت نہیں کہ وہ بتائیں اس وقت انقلاب نظر نہیں آرہا، بانی پی ٹی آئی کو حقائق بتانے چاہئیں پھر فیصلہ انھوں نے ہی کرنا ہے، ہوسکتا ہے ہماری بات بانی پی ٹی آئی کو سمجھ آجائے اور ہوسکتا ہے نہ سمجھ آئے۔
عمران اسماعیل نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی خواہش ہے، ہماری ایک ہی کوشش ہے معاملات حل ہوجائیں، بانی پی ٹی آئی باہر آجائیں۔
ایک کوشش کررہے ہیں کہ پی ٹی آئی کی پالیسی میں تبدیلی آجائے، ٹیبل پر بیٹھ کر بات کرنے کے قابل ہوں تو راستہ نکل آئےگا، پی ٹی آئی کے دیگر رہنماؤں سے بھی ملاقات کی کوشش کریں گے۔
عمران اسماعیل نے کہا کہ سہیل آفریدی کو مشورہ ہے کہ بردباری سے معاملات کو آگے لےکر چلیں، خیبر پختونخوا میں معاملات جذبات سے نہیں عقل سے لےکر چلنے ہیں۔


