site
stats
صحت

کانگو وائرس: علامات اور احتیاطی تدابیر

کراچی / لاہور / کوئٹہ: عید الاضحیٰ کی آمد قریب آتے ہی گانگو وائرس نے سر اٹھانا شروع کردیا ہے، طبی ماہرین نے مویشی منڈی جانے والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کانگو وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کریں۔

تفصیلات کے مطابق عید قرباں کی منڈیاں سجتے ہی موذی مرض کانگو وائرس کے خطرات بھی بہت بڑھ گئے ہیں ایک طرف ڈاکٹرز نے مویشی منڈی جانے والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مارکیٹ پہنچنے سے قبل اور وہاں گھومنے کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

دوسری جانب صوبائی حکومتوں کو منڈی انتظامیہ کی جانب سے انسداد کانگو کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں، صوبائی حکومتوں کی جانب سے آگاہی پمفلٹ تقسیم کیے گئے جبکہ کانگو وائرس ختم کرنے کے لیے اسپرے بھی کیا جارہا ہے۔

کانگو وائرس کیا ہے؟

کانگو وائرس کوئی نئی بیماری نہیں۔ پاکستان میں سال 2002 میں کانگو وائرس سے ایک لیڈی ڈاکٹر اور 4 بچوں سمیت 7 افراد لقمہ اجل بنے۔ یہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی وبائی بیماری ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق کانگو نامی کیڑا بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ کی جلد پر پایا جاتا ہے جو جانور کی کھال سے چپک کر خون چوستا رہتا ہے۔ یہ کیڑا اگر انسان کو کاٹ لے یا متاثرہ جانور ذبح کرتے ہوئے انسان کو کٹ لگ جائے تو اس بات کے امکانات کافی حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ یہ وائرس انسان میں منتقل ہوجائے۔

اس کیڑے کے کاٹنے کے بعد وائرس انسانی جسم میں داخل ہوکر تیزی سے سرایت کرجاتا ہے جس کے باعث متاثرہ شخص پھیپھڑے متاثر ہوجاتے ہیں۔ بعد ازاں جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور مریض موت کے منہ میں چلاجاتا ہے۔

کانگو وائرس کی علامات:

کانگو وائرس کا مریض تیز بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

اسے سر درد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اور غنودگی، منہ میں چھالے، اور آنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہے۔

تیز بخار سے جسم میں سفید خلیوں کی تعداد انتہائی کم ہوجاتی ہے جس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ شخص کے جسم کے مختلف حصوں سے خون نکلنے لگتا ہے، جگر اور گردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اگر مرض کا بروقت علاج کروا لیا جائے تو متاثرہ شخص دوبارہ صحت مند ہوسکتا ہے تاہم علاج کے لیے پابندی ضروری ہے۔

احتیاطی تدابیر:

کانگو سے بچاؤ اور اس پر قابو پانا تھوڑا مشکل ہے کیوں کہ جانوروں میں اس کی علامات بظاہر نظر نہیں آتیں تاہم ان میں چیچڑیوں کو ختم کرنے کے لیے کیمیائی ادویات کا اسپرے کیا جائے۔

کانگو سے متاثرہ مریض سے ہاتھ نہ ملائیں۔

مریض کی دیکھ بھال کرتے وقت دستانے پہنیں۔

مریض کی عیادت کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھوئیں۔

لمبی آستینوں والی اور ہلکے کپڑے کی قمیض پہنیں۔

مویشی منڈی میں بچوں کو نہ لے کر جائیں۔

مویشی منڈی میں موجود جانوروں کے فضلے سے اٹھنے والا تعفن بھی اس مرض میں مبتلا کر سکتا ہے لہٰذا اس سے بھی دور رہیں۔

کپڑوں اور جلد پر چیچڑیوں سے بچاؤ کا لوشن لگائیں۔

جانوروں کی خریداری کے لیے فل آستین کپڑے پہن کر جائیں کیونکہ بیمار جانوروں کی کھال اورمنہ سے مختلف اقسام کے حشرت الارض چپکے ہوئے ہوتے ہیں جن کے کاٹنے سے مختلف انسان مختلف امراض میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

جانوروں کی نقل و حمل کے وقت دستانے اور دیگر حفاظتی لباس پہنیں۔ خصوصاً مذبح خانوں، قصائی اور گھر میں ذبیحہ کرنے والے افراد لازمی احتیاطی تدابیراختیار کریں۔

مذبح خانوں میں جانوروں کے طبی معائنہ کے لیے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کا ہونا بہت ضروری ہے جو ایسے جانوروں کی نشاندہی کر سکیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top