The news is by your side.

Advertisement

دھڑ جڑی بہنوں کی وہ کہانی جو آپ کو رونے پر مجبور کردے

آج کل ایسے بچوں کی پیدائش عام ہوگئی ہے جن کا دھڑ آپس میں جڑا ہوا ہوتا ہے، جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے دونوں بچوں کو علیحدہ بھی کیا جاسکتا ہے جس کے بعد دونوں ایک صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔

تاہم آج سے ایک صدی قبل تک ایسے بچوں کو عفریت تصور کیا جاتا تھا اور ایسے بچے نہایت ترحم آمیز زندگی گزارتے تھے۔ ایسے ہی حالات کا شکار ہلٹن سسٹرز بھی تھیں جنہیں خوفزدہ نظروں سے دیکھا جاتا تھا تاہم یہ اپنے وقت کی سپر اسٹارز بھی تھیں۔

ہلٹن سسٹرز کا دھڑ آپس میں جڑا ہوا تھا، ڈیزی اور وائلٹ نامی یہ دھڑ جڑی بچیاں سنہ 1908 میں انگلینڈ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق انہیں علیحدہ نہیں کیا جاسکتا تھا کیونکہ ان کا نظام دوران خون ایک تھا، اور الگ کرنے کی صورت میں دونوں کی موت واقع ہوسکتی تھی۔

ان بچیوں کی والدہ کیٹ اسکنر ایک 21 سالہ غیر شادی شدہ خاتون تھیں جو ایسی بچیوں کی پیدائش کو اپنے گناہوں کی سزا سمجھنے لگی اور ایک دن اسپتال میں ہی لاوارث چھوڑ کر چلی گئی۔

اسپتال کی ایک مڈ وائف میری ہلٹن نے ان بچیوں کو گود لے لیا لیکن اس کی نیت اچھی نہیں تھی اور یہیں سے ان بہنوں کی پر اذیت زندگی کا آغاز ہوا۔

میری ان بچیوں کو ’عفریت‘ کا نام دیتی تھی اور اس کا خیال تھا کہ ان کی نمائش کر کے وہ ان سے منافع کما سکتی ہے۔ میری نے انہیں ایک پب میں رکھا اور ان کی تصاویر پر مشتمل پوسٹ کارڈ بیچنا شروع کردیے۔

پب میں آنے والے لوگ ان بچیوں کی تصاویر دیکھ کر تجسس میں مبتلا ہوجاتے اور ان بچیوں کو دیکھنا چاہتے جس کی انہیں قیمت ادا کرنی ہوتی۔ پب میں بھی کسی بھی وقت کوئی بھی شخص ان بچیوں کو دیکھنے کی فرمائش کر سکتا تھا اور انہیں چھو بھی سکتا تھا۔

بعد میں ایک انٹرویو میں ہلٹن سسٹرز نے بتایا، کہ ان کی یادداشت میں بچپن کی یاد کے نام پر صرف سگاروں اور پائپوں کی بو محفوظ ہے، اور انہیں دیکھنے آنے والوں کا ناخوشگوار لمس، ’وہ بعض اوقات کپڑے ہٹا کر یہ بھی دیکھا کرتے تھے کہ ہم کس طرح آپس میں جڑی ہوئی ہیں‘۔

صرف 3 سال کی عمر میں ان بہنوں کو مختلف میلوں میں لے جایا جانے لگا جہاں ان کی باقاعدہ نمائش کی جاتی تھی۔ ان کی منہ بولی ماں میری نے انہیں گانا اور آلات موسیقی بجانا بھی سکھایا۔ جب بھی یہ پچیاں اس کی مرضی کے خلاف چلنے کی کوشش کرتی تو وہ بیلٹ سے ان پر تشدد کرتی۔

یہ سب چلتا رہا، بچیاں بڑی ہوتی گئیں، اس دوران میری نے انہیں لے کر پورے انگلینڈ، جرمنی، اور آسٹریلیا کا سفر بھی کیا لیکن اسے زیادہ کامیابی اور خوشحالی نصیب نہ ہوسکی۔

سنہ 1915 میں اس نے ایک بار پھر اپنی قسمت آزماتے ہوئے امریکا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ امریکا آنے کے 4 برس بعد میری کا انتقال ہوگیا اور اس کے داماد میئرز نے ان بہنوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

میئرز اور اس کی بیوی ان کے لیے میری سے بھی زیادہ سخت نگہبان ثابت ہوئے، وہ ہر وقت ان کی کڑی نگرانی کرتے حتیٰ کہ انہیں اپنے کمرے میں ہی ساتھ سلاتے۔ اکثر اوقات وہ انہیں گھر سے نکالنے کی بھی دھمکی دیتے جس سے لڑکیاں خوفزدہ ہوجاتیں۔

سنہ 1920 میں ان بہنوں نے تھیٹرز ایکٹس کرنا شروع کیے اور یہاں سے ان کی قسمت کھلی۔ یہ ووڈیول کا دور تھا جو اس وقت امریکا کی واحد عوامی تفریح تھی۔ جلد ہی یہ بہنیں مقبول ہوگئیں اور ایک وقت ایسا تھا کہ اخبار کے انٹرٹینمنٹ صفحات پر صرف ان بہنوں کا نام ہوتا۔

ہلٹن سسٹرز اس وقت سیکسو فون بجاتیں اور گانے گاتیں جسے دیکھنے کے لیے اس قدر لوگ امڈ آتے کہ یہ ہفتے میں 5 ہزار ڈالر کمانے لگیں۔ اس قدر کمانے کے باوجود انہیں ایک پیسہ بھی نہ ملتا، وہ کہتی تھیں، ’ہم بے تحاشہ امیر لیکن تنہا لڑکیاں تھیں جو جدید غلامی کرنے پر مجبور تھیں‘۔

سنہ 1931 میں اپنے ایک دوست کے مشورے پر انہوں نے ایک وکیل کی خدمات حاصل کیں اور اپنے نگران میئرز کے خلاف کیس کردیا۔ جلد ہی کیس کا فیصلہ ہوا اور یہ بہنیں عدالت کے حکم پر میئرز سے 1 لاکھ ڈالر حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔

اب یہ بہنیں آزاد تھیں، انہوں نے صحیح معنوں میں اب زندگی کو دریافت کیا، اور گھومنا پھرنا اور پارٹیز میں جانا شروع کیا۔ اپنی علیحدہ شخصیتوں کے اظہار کے لیے انہوں نے ایک دوسرے سے مختلف کپڑے پہننا شروع کیے۔

ان دونوں نے اپنا شو شروع کیا، لیکن اس وقت بولتی فلموں کی مقبولیت کا دور شروع ہوچکا تھا اور ووڈیول زوال پذیر ہورہا تھا۔ جلد ہی ان بہنوں کو بھی ایک فلم ‘فریکس‘ میں کاسٹ کرلیا گیا۔ یہ فلم اس وقت متنازعہ قرار پائی لیکن آج اسے کلاسک کا درجہ دیا جاتا ہے۔

سنہ 1951 میں ان دونوں نے اپنی زندگی پر بنی فلم ’چینڈ فار لائف‘ میں کام کیا لیکن یہ فلم بری طرح فلاپ ہوئی۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان بہنوں کی مقبولیت میں بھی کمی آتی جارہی تھی۔ یہ دونوں شادی بھی کرنا چاہتی تھیں لیکن یہ ممکن نہیں تھا۔

10 سال بعد ان دونوں نے اپنی زندگی کا آخری عوامی شو کیا۔ جب عوامی زندگی کی رونقیں ختم ہوئیں تو یہ دونوں خالی ہاتھ تھیں اور ان کے پاس رہنے کے لیے گھر بھی نہ تھا۔

زندگی گزارنے کے لیے ان بہنوں نے ایک گروسری اسٹور میں کیشیئر کا کام شروع کردیا جبکہ ایک چرچ کی جانب سے انہیں گھر فراہم کردیا گیا جس کے بعد ان کی زندگی پرسکون ہوگئی۔ شاید یہ ان کی زندگی کا واحد وقت تھا جو ان کے لیے پرسکون ثابت ہوا۔

سنہ 1968 میں ہانگ کانگ فلو نامی وبا پھیلی جس نے دنیا بھر میں 10 لاکھ لوگوں کو اپنا شکار بنایا۔ اپنی زندگی کے آخری دن گزارتی یہ بہنیں بھی اس وبا کا شکار ہوگئیں، اور تھوڑے ہی عرصے میں کچھ دن کے وقفے سے انتقال کرگئیں۔ نشیب و فراز، پراسرار انفرادیت اور اذیت سے بھرپور زندگی کی یہ کہانی ان بہنوں کی موت کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں