The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس، امریکا میں ڈاکٹر کو ساتھی ملازمین پر کھانسنا مہنگا پڑ گیا

نیویارک: امریکی ریاست کنیکٹیکٹ میں ڈاکٹر کو ساتھی ملازمین پر جان بوجھ کر کھانسنا مہنگا پڑ گیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی ریاست کنیکٹیکٹ میں کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے دوران جان بوجھ کر ساتھی ملازمین پر کھانسنے پر ڈاکٹر کو گرفتار کرلیا گیا۔

ڈاکٹر کوری ایڈگر یوکین ہیلتھ اسپتال میں آرتھوپیڈک سرجری کے اسسٹنٹ پروفیسر ہے، ڈاکٹر پر الزام ہے کہ اس نے دو ساتھی ملازمین پر جان بوجھ کر کھانسا اور کرونا وائرس کے پیش نظر حفاظتی فاصلہ بھی اختیار نہیں کیا۔

یوکین ہیلتھ اسپتال کی ترجمان جنیفر واکر کے مطابق عینی شاہدین نے پولیس کو بتایا کہ ڈاکٹر ایڈگر نے دو دیگر طبی ملازمین پر جان بوجھ کر کھانسا تھا، ڈاکٹر جان بوجھ پر احتیاطی تدابیر کو نظر انداز کررہا تھا۔

Dr Cory Edgar (pictured), an assistant professor of orthopedic surgery at UConn Health, was arrested and charged with breach of peace on Thursday morning

رپورٹ کے مطابق پولیس صبح دس بجے جائے وقوعہ پر پہنچی اور ڈاکٹر کوری ایڈگر کو حراست میں لیا، فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ ڈاکٹر نے پہلے بھی مریضوں کے علاج کے دوران اس طرح کا رویہ اختیار کیا تھا یا نہیں۔

جنیفر واکر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ایڈگر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ صحت مند ہیں اور ان میں کرونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی ہے۔

یوکین ہیلتھ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وبائی مرض کے دوران تمام ملازمین کی احاطے میں داخل ہونے سے قبل علامات کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 92 ہزار تک جاپہنچی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 1300 ہوگئی ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں