site
stats
سندھ

کراچی: ماحول دشمن درخت ’کونو کارپس‘ کی خرید و فروخت پر پابندی عائد

کراچی: کمشنر کراچی اعجاز احمد خان نے شہر میں ماحول دشمن درخت ’کونو کارپس‘ کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کردی۔ انہوں نے شہر کو سرسبز بنانے کے لیے اگلے ہفتے سے شجر کاری کی نئی مہم کا آغاز کرنے کا اعلان بھی کیا۔

تفصیلات کے مطابق کمشنر آفس کراچی میں شجر کاری سے متعلق ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایڈیشنل کمشنر کراچی، تمام اضلاع کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، ضلعی میونسپل کارپوریشن ایڈمنسٹریٹرز، کنٹونمنٹ انتظامیہ، محکمہ جنگلات سندھ کی انتظامیہ اور کے الیکٹرک کے نمائندگان نے شرکت کی۔

مزید پڑھیں: تھر میں درخت کاٹنے پر پابندی عائد

کمشنر کراچی اعجاز احمد خان نے کہا کہ شہر کو سرسبز بنانے کے لیے سرسبز کراچی مہم کے تحت آگاہی مہم چلائی جائے گی جس میں شہریوں کو آگاہی فراہم کی جائے گی کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار کیسے ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق اہم معلومات اور اقدامات سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔

کمشنر کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے سے شہر کو سرسبز بنانے کے لیے شجر کاری کی نئی مہم شروع کی جائے گی جس کا آغاز مزار قائد سے ہوگا۔ اس مہم میں نیم، ببول، گل مہر، سائرس، لنگرا اور دیگر ماحول دوست درخت ضلعی انتظامیہ کی نگرانی میں لگائے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے 2 ارب روپے کی منظوری

انہوں نے ’کونو کارپس‘ درخت کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو اس پر عملدر آمد یقینی بنانے کی سختی سے ہدایت کی۔

واضح رہے کہ کونو کارپس کے درخت درختوں کی مقامی قسم نہیں ہے جس کے باعث یہ کراچی کے لیے مناسب نہیں۔ کونو کارپس کراچی میں پولن الرجی کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ دوسرے درختوں کی افزائش پر بھی منفی اثر ڈالتے ہیں جبکہ پرندے بھی ان درختوں کو اپنی رہائش اور افزائش نسل کے لیے استعمال نہیں کرتے۔

مزید پڑھیں: قومی پالیسی برائے جنگلات کا مسودہ تیار، منظوری کا منتظر

معلومات کی عدم فراہمی کے باعث کراچی میں بڑے پیمانے پر یہ درخت لگائے جا چکے ہیں۔ صرف شاہراہ فیصل پر 300 کونو کارپس درخت موجود ہیں۔

بعض ماہرین کے مطابق کونو کارپس بادلوں اور بارش کے سسٹم پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں جس کے باعث کراچی میں مون سون کے موسم پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top