The news is by your side.

Advertisement

مواخذے کی کارروائی، آئینی ماہرین نے بھی ٹرمپ کے خلاف بیانات دے دیے

واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی جاری ہے، 3 آئینی ماہرین نے بھی ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے خلاف بیانات دے دیے۔

امریکی میڈیا کے مطابق آئینی ماہرین نے ایوان نمائندگان میں جاری ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی کے دوران اپنے بیانات ریکارڈ کرا دیے، آئینی ماہرین نے کہا کہ یوکرین کے صدر پر دباؤ ڈال کر صدر ٹرمپ نے قابل مواخذہ کام کیا۔

آئینی ماہرین نے کہا کہ ٹرمپ کا 2020 میں جوبائیڈن کے خلاف کارروائی کا کہنا جرم ہے، ٹرمپ کو صدارتی انتخاب میں غیر ملکی مداخلت کی مزاحمت کرنا چاہیے تھی، ٹرمپ کا یوکرینی صدر کو کارروائی کا کہنا اختیار کا نا جائز استعمال ہے۔

دوسری طرف امریکی صدر کا کہنا تھا کہ یوکرین کے صدر کو انھوں نے جو کہا وہ امریکا کے مفاد میں کہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  مواخذے کی کارروائی ، گواہوں نے ٹرمپ کے خلاف بیان دے دیا

21 نومبر کو بھی مواخذے کی کارروائی کے دوران گواہان نے ٹرمپ کے خلاف بیانات ریکارڈ کرائے تھے، امریکی سفیر گورڈن سونڈلینڈ نے بیان دیا کہ صدر ٹرمپ نے یوکرین پر انتخابی حریف کے خلاف تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

یاد رہے امریکی ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کے مواخذے کی تحقیقات سے متعلق کارروائی میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ امریکا کے 45 ویں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان کے عہدے سے برخاست کیا جائے یا نہیں؟ ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام ہے کہ ذاتی مفاد کے لیے انھوں نے صدارت کے عہدے کا غلط استعمال کیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں