The news is by your side.

Advertisement

کراچی میں غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر : بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مجرمانہ خاموشی

کراچی : شہر قائد میں مبینہ طور پر ایس بی سی اے افسران کی ملی بھگت سے غیر قانونی عمارتوں کی تعمیرات جاری ہیں، متعدد عوامی شکایت کے باوجود غیر قانونی تعمیرات نہ رک سکیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں طاقتور مافیا نے گلبرگ، دستگیر اور عزیزآباد میں بغیر پلان پاس کرائے تعمیرات کا آغاز کردیا ہے۔

اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ عزیر آباد بلاک8،بلاک دو اور دستگیربلاک 15میں بلڈنگ پلان کی خلاف ورزیاں کی جارہی ہیں، پلاٹ نمبر1064/15اورآر410میں غیرقانونی پورشنز، دکانیں اور چھتیں بنا دی گئیں، متعلقہ محکمے کو متعدد عوامی شکایت کے باوجود غیر قانونی تعمیرات نہ رک سکیں۔

ذرائع کے مطابق غیر قانونی تعمیرات پر ڈی جی ایس بی سی اے نے بھی چپ سادھ لی ہے، مافیا کو بعض سیاسی عناصر کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسوسی ایشن بلڈرز اینڈ ڈیولپرز ( آباد ) نے بھی عزیز آباد اور گلبرگ میں غیر قانونی تعمیرات پر سوالات اٹھا دئیے، چیئرمین آباد کا کہنا ہے کہ ایس بی سی اے افسران مافیا کے ساتھ ملی بھگت کرکے غیر قانونی تعمیرات کروا رہے ہیں، شہر میں چھوٹی جگہوں پر کئی منزلہ عمارتوں کا قیام آبادی کیلئے خطرے کی علامت ہے، انہوں نے سوال کیا کہ غیرقانونی تعمیرات کیخلاف اجازت آخر کون دے رہا ہے؟

علاوہ ازیں عوامی شکایت پر اینٹی کرپشن حکام نے نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر ایس بی سی اے گلبرگ کو خط ارسال کیا ہے، شکایت پر اینٹی کرپشن نے گلبرگ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر کو طلب کرلیا، اینٹی کرپشن حکام نے مذکورہ تعمیرات کی نوٹ شیٹ، اپروول پلان اور این او سی بھی مانگ لی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں