یونی ورسٹی آف سوات ترقی کے نئے سفر پر -
The news is by your side.

Advertisement

یونی ورسٹی آف سوات ترقی کے نئے سفر پر

سوات: یونیورسٹی آف سوات کی جدید بلڈنگ تعمیرکا افتتاح ہوگیا ہے جسے اٹھارہ ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کرلیا جائے گا، وائس چانسلرڈاکٹرجہاں بخت یونی ورسٹی کو اعلیٰ ترقی یافتہ ممالک کی یونی ورسٹیوں کے معیارپرپورااتارنے کے لیے کوشاں ہیں۔

پروفیسرڈاکٹرجہان بخت جو کہ یونیورسٹی آف سوات کے وائس چانسلر ہیں، ان کا شمار پاکستان کے نامورزرعی سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے 176 بین الاقوامی معیار کے ریسرچ پیپراورپانچ کتابیں شائع کئے ہیں۔ انہوں نے اب تک 97 ایم فل اور 28 پی ایچ ڈی کے تھیسز کو سپروائز کیا ہے اوراس وقت 6 پی ایچ ڈی تھیسز کو سپروائز کررہے ہیں۔ انہوں نے ورلڈ لیبارٹری سوئٹزرلینڈ کے تحت یونیورسٹی آف گلاسکو برطانیہ اور قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے اشتراک سے 1995میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی، اس کے بعد 1997-98 میں میلان یونیورسٹی اٹلی سے، سال 1999-2001میں نیشنل یونیورسٹی آف روسارلو ارجنٹائن، سال 2003-2004میں فل برائٹ فیلو شپ اوربرٹش کونسل، ایچ ای سی کے تحت پوسٹ ڈاکٹریٹ ریسرچ مکمل کیا۔

swat-post-1

ان کی تدریسی، ریسرچ اورپروفیشنل صلاحیتوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے اُنہیں کئی ایوارڈز، تعزیتی اسناد اورسرٹیفیکیٹ سے نوازا گیا۔ جن میں سال 2000 میں سٹارلورئیٹ ایوارڈ، سال 2012-2013 میں بیسٹ یونیورسٹی ٹیچرایوارڈ، سال 2015میں ریسرچ ڈویلپمنٹ ایفرٹ ایوارڈ اورسال 2011، 2012 اور2013 میں پاکستان کونسل آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا ریسرچ پراڈکٹیوٹی ایوارڈ شامل ہیں۔ ڈاکٹر جہان بخت نے دورانِ ملازمت دنیا کے بہترین یونیورسٹیوں کے ساتھ تحقیقی اور علمی اشتراک قائم کیا جن میں یونیورسٹی آف گلاسگو برطانیہ، یونیورسٹی آف مانچسٹر برطانیہ، یونیورسٹی آف مشی گن امریکہ اور نیشنل یونیورسٹی آف روساریو ارجنٹائن قابل ذکر ہیں۔

اے آروائی نیوزکی ویب سائٹ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹریو میں انہوں نے کہا کہ آج اللہ تعالی کے فضل و کرم سے یونیورسٹی آف سوات کی عظیم الشان بلڈنگ کی تعمیرکا افتتاح ہوگیا ہے اورانشاء اللہ 18 ماہ کے دورانیے میں اس کو ہر حال میں مکمل کیا جائے گا جس کے بعد سوات میں ترقی کا نیا دورشروع ہوجائے گا اوریہاں کے طلباء وطالبات کومزید تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر ہوں گے، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ پرویزخٹک نے یونیورسٹی کے لئے ڈھائی ارب روپے دینے کی منظوری دی ہے جو بہت جلد ہمیں مل جائیں گے، وائس چانسلر نے صوبائی حکومت کا شکریہ ادا کیا کہ وہ سوات یونیورسٹی کی تعمیروترقی میں خصوصی دلچسپی لے رہی ہے۔

swat-post-2

اپنی 23سالہ مدت ملازمت میں ڈاکٹر جہان بخت نے تدریس و تحقیق کے علاوہ تعلیمی میدان، زراعت، بائیوٹیکنالوجی اور انتظامی معاملات کی ترقی میں بہت اہم کردارادا کیا ہے۔ ڈاکٹر جہان بخت نے پرنٹ اورماس میڈیا کے ذریعے جدید زراعت اور بائیوٹیکنالوجی کی اہمیت پرمفصل اوردوررس تبصرے اورمضامین شائع کئے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے بائیوٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ زرعی یونیورسٹی پشاورمیں نینو ٹیکنالوجی کی ایک جدید لیبارٹری قائم کی جہاں پر ادویاتی پودوں سے نینو پارٹیکل بنائے جاتے ہیں جو کہ نینو میڈیسن کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

7دسمبر2006 کو اُنہوں بطورِوائس چانسلریونیورسٹی آف سوات کی ذمہ داری سمبھال لی تو اُس وقت یونیورسٹی نہایت مشکل حالات سے دوچارتھی۔ ایک طرف تو اکتوبرکے زلزلے کی وجہ سے یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس جس کوماہرین نے مزید استعمال کے لئے ناقابل استعمال قراردیاتھا جبکہ دوسری طرف یونیورسٹی کے شعبہ امتحانات کوجہانزیب کالج کی طرف سے خالی کرانے کے لئے نوٹس جاری کردیا گیا تھاکیوں کہ یونیورسٹی کا یہ شعبہ انہی کی عمارت میں قائم تھا تاہم آپ نے اپنی ہمت اورمخلصانہ کوششوں سے نہ صرف طلباء وطالبات کے لیے کلاس روم مہیا کرانے کامشکل ترین پہاڑسرکرلیا بلکہ آج یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات بہترین ماحول میں علم کی روشنی چارسوپھیلانے میں مصروف ہے۔

ڈاکٹرجہان بخت کاتعلق ان چندسائنسدانوں میں ہوتاہے جوعلم پھیلانے میں بخل سے کام نہیں لیتے اور یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے چارج سنبھالنے کے فوراً بعد یونیورسٹی کے چیدہ چیدہ مسائل کوحل کرانے کی کوششیں شروع کردی اور پہلی ہی فرصت میں اُنہوں نے یونیورسٹی ملازمین کے لئے چارکول الاؤنس کی منظوری دی اورساتھ ہی ان کومیڈیکل الاؤنس دینے کے منصوبے کو حتمی شکل دے دی ہے۔

swat-post-3

وائس چانسلرماہرتحقیق ہونے کے ساتھ ساتھ وسعت نظر کے مالک بھی ہیں اور جس کا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے یونیورسٹی میں زراعت کے شعبہ کو شروع کرنے کا نہ صرف عندیہ دیا ہے بلکہ اُس پرعملی کام بھی شروع ہوچکاہے تاہم یونیورسٹی کے پاس اپنی بلڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے کچھ معاملات سست روی کاشکار ہیں ۔ اُنہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کی اپنی بلڈنگ کی تعمیرپرکام کی رفتار کوتیزترکردیا گیا ہے اور اسی سال دسمبرتک اکیڈمک بلاک اور طالبات کے لئے ہاسٹل کاکام مکمل ہوجائے گاجس کے بعد باقاعدہ وہاں کلاسسزکاآغازکیا جائے گا۔

اُنہوں نے بتایاکہ سوات کی اپنی ایک تاریخی حیثیت ہے جس کواگرصحیح معنوں میں اُجاگرکیاجائے تویونیورسٹی آف سوات میں محققین اورغیرملکی طلباء تعلیم کے لئے یہاں کا رخ کرتے نظرآئیں گے۔ اُنہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں یونیورسٹی شعبہ انسٹیٹیوٹ آف کلچرہیریٹج وٹوورزم اینڈہاسپیٹیلیٹی منیجمنٹ کومزیدفعال بنایاجائگا اور ساتھ ہی ساتھ یہاں پرایک تحقیقاتی سنٹربھی قائم کیا جائے گا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یونیورسٹی اس سلسلے میں دنیا کی ترقی یافتہ ممالک کی بہترین یونیورسٹیوں سے یادداشتیں دستخط کرنے کے لئے رابطوں میں ہیں تاکہ یہاں کے طلباء کے لئے دنیاکی بہترین یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے دروازے کھل جائیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں