The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے پریشان کن تحقیق

کرونا وائرس کے بارے میں نئی تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے، حال ہی میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے ایک نئی تحقیق نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں کرونا وائرس کے 5 ہزار سے زائد جینیاتی سیکونسز کا تجزیہ کیا گیا، تجزیے میں نکشاف ہوا کہ وائرس میں ایسی تبدیلیاں آرہی ہیں یا ایسی اقسام بن رہی ہیں جو اسے زیادہ متعدی بنا رہی ہیں۔

یہ اقسام مریضوں میں زیادہ وائرل لوڈ کا باعث بنتی ہیں۔ تحقیق میں یہ دریافت نہیں ہوا کہ یہ نئی اقسام پہلے سے زیادہ جان لیوا ہوں گی یا نہیں۔

اس سے قبل ستمبر کے شروع میں برطانیہ میں کرونا وائرس کے جینیاتی سیکونسز کی بڑی تعداد پر ہونے والی تحقیق میں بھی بتایا گیا تھا کہ ان اقسام میں اسپائیک پروٹین کی ساخت پہلے سے تبدیل ہے۔

ماہرین کے مطابق دیگر وائرسز کے مقابلے میں کرونا وائرسز جیسے سارس کووڈ 2 جینیاتی طور پر زیادہ مستحکم ہیں جس کی وجہ اس کا نقول بنانے والا پروف ریڈنگ میکنزم ہے تاہم روزانہ لاکھوں نئے کیسز کے ساتھ اس وائرس کو اپنے اندر تبدیلی لانے کے مواقع مل رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس ممکنہ طور پر مختلف تبدیلیوں جیسے ماسک پہننے اور سماجی دوری کے اقدامات کے ساتھ اپنی اقسام بنا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فیس ماسک پہننے، ہاتھوں کو دھونے اور دیگر احتیاطی تدابیر وائرس کی منتقلی کے خلاف رکاوٹ ثابت ہوتی ہیں، مگر بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان رکاوٹوں کے ساتھ یہ وائرس بھی زیادہ متعدی ہوگیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں