The news is by your side.

Advertisement

کراچی اورحیدرآباد میں ٹائی فائڈ پھیلنے کا سبب آلودہ پانی ہے: ڈاکٹرعذرا پیچوہو

کراچی: سندھ اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اعتراف کیا کہ صاف پانی کی عدم فراہمی کراچی اور حیدر آباد میں ٹائی فائیڈ کا مرض پھیلنے کا سبب ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں ٹائی فائڈ کی وبا پھیلنے سے متعلق سوال پر صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر عزرا کا کہنا تھا کہ حیدر آباد کے علاقے قاسم آباد اور لطیف آباد میں سنہ 2017 میں ٹائی فائیڈ پھیلا تھا اور اب کراچی میں پھیل رہا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ بدقسمتی سے شہریوں کو فراہم کردہ پانی صاف نہیں ہے اور ٹائیفائیڈکےپھیلاؤکی بڑی وجہ مضرصحت پانی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کوکلورینیٹ کرناواٹربورڈاورواساکی ذمہ داری ہے۔ صاف پانی کی فراہمی بلدیاتی معاملہ ہے۔

ڈاکٹر عذرا کا کہنا تھا کہ حیدرآبادمیں ٹائیفائیڈکےایک ہزارسےزائدکیس رجسٹر ہوچکےہیں اور کراچی میں یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔

سندھ اسمبلی میں ہنگامہ آرائی

ایک جانب سندھ اسمبلی میں اتنے سنگین عوامی مسئلے پر بات ہوئی تو دوسری جانب گزشتہ دو روز کی طرح آج بھی ایوان حکومت اور اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی سےمچھلی بازار بنا رہا۔

اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی نے الزام عائد کیا کہ ان کے رکن کو حکومتی رکن نے گالی دی، انہوں اسپیکر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے گالی پر کوئی ایکشن لیا۔

اس پر اسپیکر آغا سراج درانی نے موقف اختیار کیا کہ اگر کسی نے گالی دی ہےتوریکارڈہوگا۔ اس موقع پرامتیاز شیخ کا کہنا تھا کہ ہم تردید کرتے ہیں کسی نے کوئی گالی نہیں دی ہے، تین دن سے بلاسبب ہاؤس کا ماحول خراب کیا جارہا ہے۔

سندھ اسمبلی کےاجلاس میں آدھےگھنٹےسے زائد وقت تک شورشرابہ جاری رہا اور اس دوران اپوزیشن لیڈراور وزیر ِ بلدیات سعیدغنی کےدرمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ سعیدغنی نے چیخ کراپوزیشن لیڈرکوجواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ بےشرم ہیں ،ایوان کاماحول خراب کرتےہیں‘‘۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں