The news is by your side.

Advertisement

عدلیہ مخالف تقاریر: ن لیگی ملزمان نے غیرمشروط معافی مانگ لی

لاہور: قصور میں عدلیہ مخالف تقاریر کے مقدے میں نامزد ایم این اے ، ایم پی اے سمیت چھ ملزمان نے اپنے کئے پر عدلیہ اور قوم سے غیر مشروط معافی مانگ لی، عدالت نے آئندہ سماعت پر ملزمان کو فرد جرم عائد کرنے کے لئے طلب کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی ۔عدالتی حکم پر قصور میں عدلیہ مخالف مظاہرے کی فوٹیج بھی پروجیکٹر پر چلا کر دکھائی گئی۔

ملزمان ایم این اے وسیم اختر , ایم پی اے نعیم صفدر،چیرمین بلدیہ قصور ایاز خان , وائس چیرمین احمد لطیف، جمیل خان اور ناصر احمد خان نے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہوئے غیر مشروط معافی مانگ لی،ملزمان نے کہا کہ وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہیں، قوم اور عدلیہ سے معافی مانگتے ہیں۔

ملزمان کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم

ملزمان نے یہ بھی کہا کہ وہ عدلیہ کی عزت کرتے ہیں ،عدلیہ بحالی تحریک میں انہوں نے جیلیں کاٹیں ان پر رحم کرتے ہوئے معاف کر دیا جائے، درخواست گزاروں کے وکلا نے کہا کہ ملزمان اپنے اعترافی بیان کے بعد کسی رعایت کے مستحق نہیں،عدالت نے آئندہ سماعت پرعدلیہ مخالف مظاہرے کی بننے والی فوٹیج کی فرانزک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

دریں اثنا ءعدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شان گل کو پراسیکیوٹر مقرر کرتے ہوئے ملزمان کو فرد جرم عائد کرنے کے لئے طلب کر لیا۔عدالت کی جانب سے کیس کی مزید سماعت گیارہ مئی تک ملتوی کر دی گئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ سماعت میں عدالت نے اس مقدمےمیں نامزد ملزمان ایم این اے وسیم اختر، ایم پی اے نعیم صفدر، چیئرمین بلدیہ قصور ایاز خان، وائس چیئرمین احمد لطیف اور جمیل خان اور ناصر احمد خان کانام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا حکم صادر کیا تھا۔

قصور میں مسلم لیگ ن کے مذکورہ بالا اراکین اسمبلی اور کارکنان کی جانب سے عدلیہ مخالف ریلی نکالی گئی تھی اور ٹائر جلائے گئے تھے ، ریلی میں اعلیٰ عدلیہ اور ججوں کے اہل خانہ کے خلاف نازیبا زبان کا بے دریغ استعمال کیا گیا اور چیف جسٹس آف پاکستان کا نام لے کر مغلظات دی گئی تھیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں