The news is by your side.

Advertisement

ملک مخالف انٹرویو، عدالت نے نوازشریف اور شاہد خاقان کو کل طلب کرلیا

لاہور: ہائی کورٹ نےنواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کو متنازع انٹرویو دینے پر  تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے دونوں سابق وزرائے اعظم کو کل عدالت میں وضاحت کے لیے طلب کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے دو سابق وزرائے اعظم کے خلاف دائر درخواست کا تحریری فیصلہ جاری کیا جو  دو صفحات پر مشتمل ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ بادی النظر میں میاں نواز شریف کا ملتان میں انٹرویو ملکی آئین کی خلاف ورزی ہے، سابق نااہل وزیر اعظم اور شاہد خاقان عباسی ذاتی حیثیت میں پیش ہوکر اپنے انٹرویو کی وضاحت کریں۔

سول سوسائٹی کی رکن آمنہ ملک اور پاکستان زندہ باد پارٹی نے میاں نوازشریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق  نے دورانِ سماعت اختیار کیا تھا  کہ نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی نے وزارت عظمی کے حلف کی پاسداری نہیں کی۔

مزید پڑھیں: ممبئی حملوں میں کالعدم تنظیمیں ملوث ہیں، نوازشریف

اُن کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے  ملکی سلامتی کے خلاف انِٹرویو دیا جس سے پاکستان کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی لہذا عدالت بغاوت کے الزام کے تحت کارروائی کرے۔

انہوں نے کہاکہ نواز شریف کے بیان پر  قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جس میں اس بیان کو بے بنیاد قرار دیا گیا جبکہ شاہد خاقان عباسی نے اپنی زیر صدارت  بند کمرے میں ہونے والے اجلاس کی کارروائی سے نوازشریف کو آگاہ کیا اور انہوں نے بھی اپنے حلف سے روح گردانی کی۔

یہ بھی پڑھیں: قومی سلامتی کمیٹی نے نوازشریف کا بیان متفقہ طور پر مسترد کردیا

درخواست گزارکے وکیل نے استدعا کی کہ شاہد خاقان عباسی اور نواز شریف کے خلاف حلف اور آئین کی پاسداری نہ کرنے پر  بغاوت کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

عدالت نے دائر درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں دونوں سابق وزرائے اعظم کو  کل صبح پیش ہونے اور وضاحت دینے کا حکم دیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں