The news is by your side.

Advertisement

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گھوٹکی کی 2نومسلم بہنوں کی تبدیلی مذہب درست قرار دے دی

اسلام آباد ہائی کورٹ نے گھوٹکی کی دونومسلم بہنوں کی تحفظ فراہم کرنے کی درخواست منظور کرلی

اسلام آباد : اسلام آبادہائی کورٹ نے گھوٹکی کی 2نومسلم بہنوں تبدیلی مذہب درست قراردیتے ہوئے دونوں لڑکیوں کی فراہمی تحفظ کی درخواست منظور کرلی اور عدالت نے کمیشن کو 4 ہفتے کا وقت دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے گھوٹکی کی ہندو مذہب تبدیل کرکے پسند کی شادی کرنے والی دو بہنوں آسیہ عرف روینہ اور نادیہ عرف رینہ کی فراہمی تحفظ کی درخواست پر سماعت کی۔

کمیشن کے ممبر اے آر رحمان اور وفاقی سیکرٹری داخلہ عدالتی حکم پر عدالت میں پیش ہوئے۔

عدالت نے دونوں بہنوں کی تبدیلی مذہب درست قراردیتے ہوئے کہا عدالت نے کمیشن رپورٹ کو مدنظر رکھ کر فیصلہ دیا جبکہ کمیشن نے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کے لیے4 ہفتے مانگے، جس پر عدالت نے کمیشن کو 4 ہفتے کا وقت دے دیا۔

عمیر بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا گزشتہ سماعت اور آج بھی سماعت کے دوران عدالت میں دونوں لڑکیوں کو پیش نہیں کیا گیا، جس پر وزارت داخلہ نے بتایا کمیشن کے 5 میں سے 3 ممبر نے اجلاس کیا اور دونوں لڑکیوں کے بیانات ریکارڈ کئے، دونوں لڑکون کے بھی آج بیان ریکارڈ کر دیئے ہیں۔

کمیشن رپورٹ میں کہا گیا دونوں لڑکیوں کو زبردستی مذہب تبدیل نہیں کرایا گیا، مگر سہولت فراہم کیا گیا، دونوں بالغ لڑکیوں نے اسلام سے آشنا ہو کر اسلام قبول کیا۔

مزید پڑھیں : گھوٹکی: 2 لڑکیوں کا مبینہ اغوا، سندھ حکومت نے تحقیقات کے لیےکمیٹی بنا دی

میڈیکل بورڈ نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرایا، جس کے مطابق دونوں بہنیں 18 اور 19 سال کی ہیں۔

وزارت داخلہ نے کہا گھوٹکی میں ایسے معاملات عام ہیں، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا سپریم کورٹ کے حکم پر کیا عمل درآمد کرایا گیا تو وزارت داخلہ نے بتایا فائنل رپورٹ بھی عدالت کو دینا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا اس کورٹ کی حساسیت کو عدالت نے دیکھا ہے، کمیشن کے ممبران انتہائی قابل احترام شخصیت ہیں، آئی اے رحمان کا کہنا تھا گھوٹکی میں مذہب تبدیل کرنے والے سنٹر کو چیک اینڈ بیلنس کرنے اور اس معاملے پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا اسلام آباد ہائی کورٹ کے داہرہ اختیار کا معاملہ ہے، اقلیتوں کے حقوق صرف زبانی حد تک محفوظ رکھنے کی نہیں بلکہ دیکھائی دے کے اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہیں، یہ عدالت پارلیمنٹ کو قانون سازی کا حکم نہیں دے سکتا۔

رمیش کمار نے کہا میں اس عدالت کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جس پر چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا آپ کو شکریہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔

بعد ازان عدالت نے سماعت 14 مئی تک ملتوی کر دی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے نو مسلم بہنوں نادیہ اورآسیہ کی عمر کے تعین اور حقائق جاننے کے لیے 5 رکنی کمیشن قائم کرنے کا حکم دیا تھا، کمیشن میں مفتی تقی عثمانی کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

مزید  پڑھیں:  نومسلم بہنوں کی عمر کے تعین اور حقائق کیلیے 5 رکنی کمیشن قائم کرنے کا حکم

واضح رہے کہ ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے گھوٹکی کی دو لڑکیوں کے بھائی اور والد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی تھیں جن میں انہوں نے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ان کی دو بیٹیوں کو اغوا کر کے ان پر اسلام قبول کرنے کےلئے دباﺅڈالا جارہا ہے تاہم ساتھ دونوں لڑکیوں کی ویڈیوز بھی سامنے آئی تھیں جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے 24 مارچ کو لڑکیوں کے مبینہ اغوا اور ان کی رحیم یار خان منتقلی کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

بعدازاں لڑکیوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ انہوں نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا لیکن منفی پروپیگنڈے سے جان کو خطرات لاحق ہیں لہٰذا عدالت حکومت کو ہمیں تحفظ فراہم کرنے کے احکامات صادر کرے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نومسلم لڑکیوں کو سرکاری تحویل میں دینے کا حکم دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ڈائریکٹر جنرل ہیومن رائٹس کے حوالے کردیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں