پیر, جنوری 19, 2026
اشتہار

کیا کوپ 30 کا اختتام مایوس کن رہا؟

اشتہار

حیرت انگیز

برازیل کے شہر بیلیم میں ہونے والی کوپ 30 اس امید کے ساتھ شروع ہوئی تھی کہ دنیا موسمیاتی بحران کے موڑ پر کوئی بڑا اور جرأت مندانہ قدم اٹھائے گی۔ مگر گیارہ دن کے مذاکرات کے بعد سامنے آنے والا اعلامیہ ماہرین، سائنسدانوں اور ترقی پذیر ممالک کے لیے مایوس کن ثابت ہوا، کیوں کہ فوسل فیولز کے خاتمے پر واضح اتفاق نہ ہو سکا، جبکہ موسمیاتی مالیات خصوصاً ایڈاپٹیشن اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کے حوالے سے بھی عملی اور یقینی اقدامات کی کمی نمایاں رہی۔

"یہ کانفرنس اپنے پیچھے ایک اہم سوال چھوڑ گئی، کیا دنیا 1.5 ڈگری کی جنگ جیتنا چاہتی بھی ہے یا نہیں”

کوپ 30 سے کیوں توقعات زیادہ تھیں؟

دنیا کوپ 30 کو کئی حوالوں سے فیصلہ کن کانفرنس سمجھ رہی تھی، کیوں کہ دنیا 2020–2030 کے ”کریٹیکل ڈی کیڈ” کے وسط میں داخل ہو چکی ہے۔ 2025 میں درجۂ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچا، اور عالمی سطح پر موسمیاتی آفات کی شدت میں اضافہ ہوا۔ ماہرین کے مطابق اگر 2030 تک ’اخراج‘ میں 43 فیصد کمی نہ کی گئی تو 1.5 ڈگری کا ہدف تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ ایسے حالات میں بیلیم کا اجلاس نظریاتی نہیں بلکہ عملی فیصلوں کا امتحان تھا۔

کوپ کے اہم فیصلے…….پیش رفت کتنی، کمی کتنی؟

کوپ 30 نے ایک نئے عالمی مشن کا ” Belém Mission to 1.5“ کا اعلان کیا جس کے مطابق ممالک کو 1.5 سینٹی گریڈ کے ہدف کو حاصل کرنے کے لیے فوری طور پر نئے اقدامات اور رپورٹنگ فریم ورک پر کام کرنا ہے۔ مگر اس مشن میں کوئی لازمی ٹائم لائن شامل نہیں کی گئی۔ اخراج کم کرنے کے لیے واضح ہدف متعین نہیں کیا گیا۔ 2026 تک عالمی رپورٹنگ کی بات کی گئی، مگر اس کے نفاذ کی ضمانت بھی موجود نہیں ہے۔

ایڈاپٹیشن فنڈنگ کو تین گنا کرنے کی تجویز

یہ اعلان ضرور خوش آئند ہے، کیونکہ ترقی پذیر ممالک موسمیاتی اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ لیکن "فنڈنگ کو تین گنا” کرنے کا اعلان سیاسی بیان سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ فنڈز کے ذرائع، ادائیگی کا نظام، اور ترجیحی ممالک کا انتخاب سب کچھ ابھی غیر واضح ہے۔

لاس اینڈ ڈیمیج (Loos & Damage) کے لیے فریم ورک کی منظوری

وارسا انٹرنیشنل میکنزم کے تیسرے جائزے کی منظوری ایک مثبت قدم ضرور ہے۔تاہم اب بھی یہ طے نہیں کہ فنڈ کیسے مکمل کیا جائے گا۔ کن ممالک کو کس بنیاد پر کتنی امداد ملے گی؟ گلوبل ساؤتھ کے ممالک جو موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہو رہے ہیں ان کو ان سوالات کا کوئی جواب نہیں ملا۔ کچھ نے اسے کامیابی قرار دیا، جبکہ بعض نے اسے ”سست پیش رفت” کہا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس حوالے سے فریم ورک تو موجود ہے مگر فنڈنگ نہیں۔

فوسل فیول کا خاتمہ…..سب سے حساس معاملہ

یہ کانفرنس اسی نکتے پر پھنس گئی۔ 80 سے زائد ممالک نے تیل اور گیس کے خاتمے کے لیے مضبوط زبان شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ مگر بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک (بالخصوص مڈل ایسٹ اور چند لاطینی/ایشین ریاستیں) نے مخالفت کی۔جس کے نتیجے میں حتمی مسودے سے فوسل فیول کے خاتمے کی شق نکال دی گئی۔یہی اقدام کوپ 30 کے ”مایوس کن اختتام” کی سب سے بڑی وجہ بنا۔

ترقی پذیر اور غریب ممالک کا ردِعمل…..امید اور بے چینی کا امتزاج

ان ممالک کو سب سے زیادہ مایوسی فوسل فیول روڈ میپ پر کیے گئے فیصلے پر ہوئی کیوں کہ افغانستان سے لے کر جنوبی سوڈان، پاکستان سے لے کر جزیرہ نما ریاستوں تک سب کا مشترکہ مطالبہ یہی تھا کہ ”فوسل فیول کے بغیر 1.5 ڈگری کا حصول ناممکن ہے۔” مگر حتمی متن میں ایک بار پھر مبہم زبان استعمال کی گئی، جو صرف ”outdated fossil systems” یا ”equitable transitions” جیسے غیر واضح بیانات تک محدود رہی۔

موسمیاتی مالیات— ترقی پذیر ممالک کی سب سے بڑی جنگ

غریب اور ترقی پذیر ممالک کا کہنا تھا کہ فنڈنگ کی موجودہ شرائط سخت ہیں جس کی وجہ سے قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ موجودہ صورتحال میں ایڈاپٹیشن کی ضرورت بڑھ رہی ہے مگر رقوم اس کے برعکس انتہائی کم ہیں۔ اس حوالے سے جزیرہ ریاستوں نے یہاں تک کہا کہ "ہم پانی میں ڈوب رہے ہیں اور عالمی مذاکرات ہمیں صرف وعدے دے رہے ہیں۔”

عالمی طاقتوں کا ردِعمل…. تضادات واضح ہو گئے

یورپی ریاستوں نے کھل کر اعلان کیا کہ یہ متن ”1.5 ڈگری کے ہدف کے مطابق نہیں۔” ان کے مطابق فوسل فیول کا خاتمہ اور اس کے لیے سخت فیصلے کیے بغیر کوئی بھی جشن بے معنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو صاف الفاظ میں “فیز آؤٹ” کہنا ہوگا۔ اس حوالے سے بیشتر ترقی یافتہ ملکوں نے ہمیشہ کی طرح سیاسی طور پر معتدل راستہ اپنایا اور دنیا کو بتایا کہ وہ فوسل فیول کے خاتمے کے حق میں بھی ہیں اور بڑی معاشی حقیقتوں کے بھی پابند۔

تیل و گیس پیدا کرنے والے ممالک…..مضبوط اور منقسم

ان ممالک کا مؤقف تھا کہ ترقی پذیر دنیا کو توانائی کی ضرورت ہے۔ جو ممالک خود صنعتی ترقی مکمل کر چکے، وہ اب دوسروں پر سختی نہ کریں۔ ان کے سیاسی اثر و رسوخ نے مسودے کی سمت بدل دی۔

پاکستان کا مؤقف واضح، مضبوط مگر محدود اثر کے ساتھ

پاکستان نے کوپ 30 میں تین بنیادی نکات پر زور دیا کہ موسمیاتی مالیات میں انصاف (Climate Justice)، موسمیاتی بحران کے وہ شکار ہیں جو اس کے ذمہ دار نہیں۔ اس لیے مالیات کا نظام انصاف پر مبنی ہونا چاہیے۔ کلائمٹ فنانس کا حصول فوری اور یقینی بنایا جائے کیوں کہ ہمیں قرض کی نہیں، گرانٹس کی ضرورت ہے۔ اس لیے لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کا فوری آغاز ضروری ہے اور حقیقت یہ ہے کہ موسمیاتی فنڈز تک رسائی انتہائی سست اور تکنیکی رکاوٹوں سے بھری ہوئی ہے۔

علاقائی اتحاد…….. پاکستان گلوبل ساؤتھ کی آواز مضبوط

پاکستان نے بنگلہ دیش، نیپال، مالدیپ، سری لنکا اور افریقی بلاک کے ساتھ مشترکہ بیانیہ پیش کیا کہ 1.5ڈگری سینٹی گریڈ کا ہدف صرف تب ممکن ہے جب ترقی یافتہ دنیا اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

کیا واقعی کوپ 30 کا اختتام مایوس کن رہا؟

عالمی سائنس دانوں، ماحولیاتی ماہرین سمیت گلوبل ساؤتھ کا ماننا ہے کہ فوسل فیول کے خاتمے کا واضح اعلان شامل نہ ہونا، لاس اینڈ ڈیمج کے نفاذ میں تاخیر،ایڈاپٹیشن فنڈنگ کے وعدوں کی غیر یقینی حیثیت اور ترقی پذیر دنیا کے مالیاتی خدشات کا حل نہ ہونا یہ وہ بنیادی عوامل ہیں جس نے کوپ 30 سے وابستہ کی جانے والی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ ”بیلم مشن“ اگرچہ کمزور، مگر پھر بھی عالمی اتفاق کی علامت بنا، لاس اینڈ دیمج فنڈ کے منظور شدہ فریم ورک کے ساتھ یہ بھی نظر آیا کہ عالمی سطح پر صنعتی ڈیکربونائزیشن کا بیانیہ اب مستحکم ہو رہا ہے۔ مگر بنیادی نتیجہ یہی ہے کہ کوپ 30 ایک ”پولیٹیکل کمپرومائز“ کانفرنس ثابت ہوئی جسے نہ مکمل ناکامی، نہ مکمل کامیابی کہا جا سکتا ہے۔

آگے کا راستہ…….پاکستان اور عالمی برادری کیا کرے؟

پاکستان کو کوپ میں کیے گئے فیصلوں کی روشنی میں فوری Bankable Projects تیار کرنے ہوں گے، ان میں سیلاب، گلیشیئر پگھلاؤ، شہری سیلابی نظام، زرعی ایڈاپٹیشن، ساحلی تحفظ جیسے اہم منصوبے شامل ہوں۔ ماہرین کی مشاورت سے ان منصوبوں کو عالمی فنڈز کے لیے تیار کر کے پیش کرنا ہوگا۔ لاس اینڈ ڈیمج فنڈ کے حصول کے لیے علاقائی تعاون کے مختلف فورم جیسے سارک وغیرہ پر مشترکہ موقف اپنانا ہو گا کیوں کہ پاکستان اکیلے مضبوط آواز نہیں بن سکتا اس کے لیے مشترکہ لابنگ ضروری ہے۔ پاکستان کو دوسرے متاثرہ ممالک کے ساتھ مل کر واضح ٹائم لائن، مقدار اور رسائی کے اصول طے کرانے ہوں گے۔

اندرونی سطح پر گرین پالیسیوں کا نفاذ کرنا ہو گا، اگر پاکستان خود اخراج کم کرنے میں پیش رفت نہیں کرے گا تو عالمی سطح پر اس کی اخلاقی حیثیت کمزور پڑ جائے گی۔

بیلیم کانفرنس…….امید اور ناامیدی کا سنگم

کوپ 30 نے دنیا کو یہ سچ دکھا دیا ہے کہ موسمیاتی بحران سیاسی مفادات، اقتصادی دباؤ اور عالمی طاقتوں کے درمیان ایک پیچیدہ جنگ بن چکا ہے۔ یہ کانفرنس اپنے پیچھے ایک اہم سوال چھوڑ گئی ہے کہ کیا دنیا 1.5 ڈگری کی جنگ جیتنا چاہتی بھی ہے یا صرف اس کا دعویٰ کرتی رہے گی؟ پاکستان کے لیے یہ لمحہ انتہائی نازک ہے۔ اگر عالمی مالیات وقت پر نہ ملیں، اگر ترقی یافتہ دنیا نے اپنا حصہ ادا نہ کیا، اور اگر ہم نے اندرونی اصلاحات نہ کیں تو آنے والی دہائیاں ناقابلِ تلافی نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔

+ posts

گزشتہ 20 برسوں سے محمود عالم خالد ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ وہ ماحولیاتی جریدے فروزاں کے ایڈیٹر ہیں اور کئی قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کرچکے ہیں۔ ماحولیات سے متعلق ان کے مضامین اور کالم قومی سطح کے مختلف اخبارات اور جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ وہ شمالی علاقہ جات اور ڈیزرٹ ایریا میں فیلڈ ورک بھی کرتے ہیں جبکہ کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹر کی نیشنل کلائمٹ چینج کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین اور فیڈریشن آف پاکستان کی انوائرمینٹ کمیٹی کے رکن بھی رہے ہیں۔

اہم ترین

محمود عالم خالد
محمود عالم خالد
گزشتہ 20 برسوں سے محمود عالم خالد ماحولیاتی و موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ وہ ماحولیاتی جریدے فروزاں کے ایڈیٹر ہیں اور کئی قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کرچکے ہیں۔ ماحولیات سے متعلق ان کے مضامین اور کالم قومی سطح کے مختلف اخبارات اور جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ وہ شمالی علاقہ جات اور ڈیزرٹ ایریا میں فیلڈ ورک بھی کرتے ہیں جبکہ کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹر کی نیشنل کلائمٹ چینج کمیٹی کے ڈپٹی چیئرمین اور فیڈریشن آف پاکستان کی انوائرمینٹ کمیٹی کے رکن بھی رہے ہیں۔

مزید خبریں