The news is by your side.

Advertisement

کرونا کی ‘بوسٹر خوراک’ سے متعلق وہ حقائق جو آپ نہیں جانتے

امریکا، برطانیہ ، فرانس ، جرمنی اور اسرائیل نے اپنے شہریوں کو کرونا وبا سے بچانے کے لئے ‘ بوسٹر خوراک’ دینے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت نے اس عمل پر کڑی تنقید کی ہے۔

فائزر بائیو ٹیک امریکا میں پہلی ویکسین بن گئی ہے، جسے بوسٹر رول آوٹ کے لئے ہنگامی منظوری ملی ہے، مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بوسٹر شاٹس کیوں ضروری ہے اور کون سے افراد اس کے اہل ہیں؟، ان سوالات کے جوابات کچھ اس طرح پیش کئے گئے ہیں۔

بوسٹر شاٹ کے لیے کون اہل ہے؟

امریکا میں فائرز کو بطور بوسٹر خوراک کی منظوری سولہ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے لئے مانگی گئی تھی، مگر امریکی حکام نے صرف 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کے لئے اس کی منظوری دی، حکام کا کہنا ہے کہ اس عمر کے افراد کو کرونا سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔

حکام کے مطابق اٹھارہ سال سے لیکر 64 سال کے عمر کے افراد کو اس وائرس سے زیادہ خطرہ ہے کیونکہ پیشہ وارانہ سرگرمیوں کے باعث ان میں کرونا کا امکان زیادہ ہے۔

فائزر حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حکام اپنے اگلے قدم کے طور پر تمام امریکیوں کو بوسٹر ڈوز لگانے کی سفارش کرینگے۔

بوسٹر شاٹ کب دیا جائے؟

واچ ڈاگ یوایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے ) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ تیسرا شاٹ کم از کم چھ ماہ بعد دیا جانا چاہیے جب ایک فرد کو دو خوراکوں دی جاچکی ہوں۔

بوسٹر ویکسین کیوں ضروری ہے؟

فائزر کے مطابق اب جو بوسٹر شاٹ منظور کیا گیا ہے وہ ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے بنیادی ویکسینیشن کرانے کے بعد کرونا سے کافی تحفظ حاصل کیا، لیکن مدافعت کے ختم ہونے کی وجہ سے وقت کے ساتھ ان کی حفاظت میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔

بوسٹر ڈوز سے حفاظت کیسے حاصل ہوگی؟

حکام کا کہنا ہے کہ فائزر ویکسین کے تیسرے شاٹ میں فارمولے اور خوراک کی طاقت ایک جیسی ہوگی یہ ان افراد کے لئے ہوگی جو اپنی دو خوراکیں مکمل کرچکے ہیں۔

دوسری جانب ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے بوسٹر شاٹس متعارف کرانے کے اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وبائی مرض کے خاتمے کے لیے وقت کی ضرورت ہے کہ دنیا بھر میں جتنی جلدی ممکن ہو لوگوں کو ویکسین فراہم کی جائے کیونکہ غریب ممالک اب بھی اپنی بیشتر آبادی کو پہلا شاٹ دینے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں