The news is by your side.

Advertisement

کرونا وبا: قطار لگانے کا کام عروج پانے لگا، بے روزگاروں کی چاندنی

ہوانا : کرونا وبا کے باعث کیوبا میں اشیائے ضروریہ کے حصول کےلیے قطاروں میں کھڑے ہونا انتہائی منافع بخش کاروبار بن گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کیریبین ملک کیوبا کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں کرونا وبا کے باعث شہری شدید مشکلات سے دوچار ہوئے اور ملک معاشی بحران کا شکار ہوا۔

معاشی بحران کے باعث ملک میں اشیائے ضروریہ کا حصول ایک انتہائی مشکل کام بن چکا ہے جس کےلیے شہریوں کو کئی کئی گھنٹے قطاروں میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔

ملک کی ابتر صورتحال دیکھ کر کچھ بے روزگار مقامی افراد نے قطاروں میں کھڑے ہونے کو بھی اپنا کاروبار بنالیا ہے جو انتہائی منافع بخش ہے۔

مارکو جیمز نامی کولیرو (قطاروں میں کھڑے ہونے والا) نے بتایا کہ روزانہ خریداری کے لیے گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ خاص طور پر بوڑھے افراد کے لیے، کرونا وبا کے دوران ان کے لیے مزید خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے متعدد افراد نے ایک نیا کاروبار شروع کر دیا ہے۔

مارکو جیمز نے بتایا کہ وہ ایک سرکاری گلاس فیکٹری میں کام کرتے تھے جہاں انہیں ماہانا 280 کیوبن پیسو (تقریباً 1800 روپے) ملتے تھے جو کرونا کے باعث بند ہوگئی۔

روزگار نہ ہونے کے باعث وہ بھی کولیرو بن گئے ہیں جو ایک کلائنٹ سے ’50 کیوبن پیسو’ وصول کرتے ہیں اور اب ہفتہ وار 750 سے 1000 کیوبن پیسو کماتے ہیں لیکن اس کام کےلیے انہیں صبح 5 بجے اٹھ کر دکان کے سامنے اپنا نشان لگانا ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب 9 بجے دکان کھلتی ہے تو دو تین سو افراد کی قطار پہلے ہی لگ چکی ہوتی ہے، مارکو کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو مثال کے طور پر مرغی لینی ہے تو 6 سے 7 گھنٹے قطار میں گزر جاتے ہیں۔

مارکو نے امید ظاہر کی بہت جلد ملک کے حالات دوبارہ پہلے کی طرح ہوجائیں گے اور وہ واپس کوئی مستقل ملازمت تلاش کریں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں