The news is by your side.

Advertisement

کیا کرونا ماسک پہننے سے آکسیجن میں کمی ہوجاتی ہے؟ اصل کہانی سامنے آگئی

لندن: کرونا سے بچاؤ کے لیے دنیا بھر کے طبی ماہرین نے لوگوں کو ماسک پہننے کی ہدایت کی اور اس کو لازمی بھی قرار دیا ہے۔

پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک نے گھر سے باہر نکلنے والے شہریوں کے لیے ماسک پہننے کو لازمی قرار دیا ہے لیکن اس حوالے سے بہت ساری قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔

کرونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے عالمی ادارہ صحت نے پبلک ٹرانسپورٹ، دکانوں اور مجمع میں ماسک پہننے کی سختی سے تاکید کی تھی۔ اس کے علاوہ کلینکوں میں کام کرنے والا عملے اور 60 برس سے زائد عمر کے افراد اور بیمار افراد کو میڈیکل ماسک پہننے کی ہدایت بھی کی۔

عام طور پر ایک قیاس آرائی کی جاتی ہے کہ کرونا سے بچاؤ کا ماسک پہننے سے آکسیجن میں کمی ہوجاتی ہے اور انسان کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں: فیکٹ چیک، کیا ماسک لگانے سے انسان کی موت واقع ہوسکتی ہے؟

یہ بھی پڑھیں: فیس ماسک کرونا کا خطرہ 65 فیصد کم کردیتا ہے، تحقیق

اس مفروضے کو برطانوی نیشنل ہیلتھ سروس کے ڈاکٹر جوشوا واریچ نے مسترد کرتے ہوئے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں انہوں نے حقائق بیان کیے۔

ڈاکٹر جوشوا نے اپنی جاری کردہ ویڈیو میں ماسک سے آکسیجن میں کمی کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا اور اس حوالے سے ایک ٹیسٹ بھی کر کے دکھایا تاکہ لوگوں کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ فیس ماسک آکسیجن کی کمی پیدا نہیں کرتا اور نہ ہی انسانوں کے لیے یہ خطرناک ہے۔

برطانوی ڈاکٹر جوشوا واریچ کا کہنا تھا کہ ماسک پہننا، انسانی جسم میں آکسیجن کی کمی کا باعث نہیں بنتا اور نہ یہ جسم میں داخل ہونے والی آکسیجن کو روک سکتا ہے، اس طرح کی جھوٹی باتیں وہ لوگ پھیلا رہے ہیں جو مذاق یا دھوکے پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور کسی بھی بے بنیاد بات کو  بغیر تصدیق کے تسلیم کرلیتے ہیں۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ ماسک آپ کی حفاظت کے لیے ہے، اگر آپ کو اسے پہننے کا کہا جا رہا ہے تو اسے پہننا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں